امریکی سینیٹ میں اسرائیل، یوکرین اورتائیوان کے لیے95 ارب ڈالرجنگی امدادی پیکج پرووٹنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی سینیٹ میں اسرائیل ، یوکرین اور تائیوان کے لیے ایک بڑے امدادی پیکج کی حتمی منظوری کے لیے آج منگل کے روز بحث ہوگی ۔

امکانی طور پر اسرائیل ، یوکرین اور تائیوان کو ان کی جنگوں میں بھر پور مدد دینے کے لیے 95 ارب ڈالر کے پیکج کی منظوری کے لیے ووٹنگ کرائی جا گئی ۔

اس بل کی منظوری میں اب تک کی تاخیر کی وجہ کانگریس سے باہر ہونے والی طویل بحث و مباحثہ رہا ہے، کہ آیا امریکہ کو دوسرے ملکوں کی جنگوں میں اس طرح شریک ہونا چاہیے یا نہیں ۔

خیال رہے کہ یوکرین کے لیے امریکہ کی طرف سے 61 ارب ڈالر کی جنگی امداد کا سوال اس وقت سامنے آیا ہے جب جنگ زدہ یوکرین کو اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے مزید وسائل کی اشد ضرورت پڑ گئی ہے۔

روس کی طرف سے یوکرین پر حملے تیز کیے جا چکے ہیں۔ روسی فوجی اگلے مورچوں کو قابو کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یوکرین اپنے اہم علاقے چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ یوکرین کو شکست سے بچانے کے لیے امریکی و مغربی ممالک کی امداد کلیدی کردار کی حامل ہے ۔

صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کو یقین دلایا ہے کہ امریکہ جلد یوکرین کو فضائی اور دفاعی ہتھیار بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان نے اس امدادی پیکج کی منظوری ہفتہ کے روز دی تھی جس کے بعد یہ بل سینیٹ کی منظوری کے لیے بھیج دیا گیا۔

یوکرینی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے کہ مجھے امریکہ کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ امدادی پیکج جلد منظور کر لیا جا ہے گا۔ یہ امدادی پیکج پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گا جس میں فضائی و دفاعی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ دور تک مار کرنے والے توپ خانے کی سہولت بھی شامل ہو گی۔

ادھر اسرائیل کے لیے غزہ کی جنگ میں کامیابی یقینی بنانے کے لیے 26 ارب ڈالر کی نئی امریکی جنگی امداد کی منظوری بھی کی جائے گی جبکہ تائیوان کے لیے 8 ارب ڈالر کا بل منظور کیا جانے کی توقع ہے۔

سینیٹ میں جو بائیڈن انتظامیہ کی مخالف ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ری پبلکنز نے اس موقع پر' ٹک ٹوک 'پر پابندی کا بھی ایک بل سینیٹ میں پیش کر نے کا ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔

نیز ری پبلکنز نے بل میں یہ بھی اضافی مطالبہ شامل کیا ہے کہ یوکرین کو 9 ارب ڈالر کی ایسی امداد دی جائے جو قابل معافی قرض کی شکل میں ہو ۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے یہ امدادی پیکج پچھلے سال موسم گرما میں پیش کیا گیا تھا لیکن اپوزیشن کے طرف سے اس پر سخت مخالفت کی گئی تھی۔

اپوزیشن نے یہ ایک بنیادی سوال اٹھا دیا تھا کہ کیا امریکہ کو بیرون ملک جنگوں کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں۔ اپوزیشن کانگرس ارکان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنے وسائل بیرونی جنگوں میں جھونکنے کے بجائے میکسیکو سے جڑی امریکی سرحد پر لگانے چاہیے تاکہ غیر قانونی طور پر لوگ امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں