چینی سرپرستی میں فلسطین کی حکمران جماعت تحریک فتح اور مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان مشترکہ مذاکرات کے اعلان کے بعد چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فلسطینی جماعتوں نے مصالحت کے لیے باہمی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے منگل کو کہا کہ دونوں فریقوں نے مذاکرات کے ذریعے فلسطینی مفاہمت کے حصول کی سیاسی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں تحریکوں کے نمائندے حال ہی میں مفاہمت کو فروغ دینے کے مقصد سے گہری اور صاف بات چیت کے لیے بیجنگ آئے تھے۔
حوصلہ افزا پیش رفت
بعد ازاں وزارت خارجہ کی دوسری ترجمان ہوا چونینگ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر وضاحت کی کہ دونوں فریقین نے متعدد موضوعات پر بات چیت کی۔ بات چیت میں "حوصلہ افزا پیش رفت" ہوئی۔ انہوں نے فلسطینی اتحاد کے حصول کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
تاہم ترجمان نے ملاقات کے بارے میں کسی اور تفصیلات کا ذکر نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ دونوں تحریکوں نے "مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مفاہمت کے حصول کے لیے اپنی مکمل سیاسی خواہش کا اظہار کیا"۔
فلسطینی ذرائع نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ اس اجلاس میں فتح کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان عزام الاحمد اور سمیر الرفاعی اور حماس کے رہ نما موسیٰ ڈاکٹر ابو مرزوق اور حسام بدران شرکت کریں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب قیدیوں کے معاہدے کے حوالے سے حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیہ نے استنبول سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں شامل ہونا چاہتی ہے۔
سات اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں جماعتوں نے کئی مقامات پر الزامات کا تبادلہ کیا ہے اورایک دوسرے کو فلسطینیوں کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔