روس کی جانب سے یوکرین کے زیلنسکی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے ایک سرکاری ڈیٹا بیس نے ہفتے کو دکھایا کہ روس نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو مطلوب مجرموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

زیلنسکی روسی وزارتِ داخلہ کی "مطلوب" فہرست میں ظاہر ہوئے جو حکام کو مطلوب مبینہ مجرمان کا ایک آن لائن ڈیٹا بیس ہے۔

مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر اس میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی رہنما "ضابطۂ فوجداری کی ایک شق کے تحت" مطلوب تھے۔

روسی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کہ زیلنسکی کو فہرست میں کیوں شامل کیا گیا تھا۔

ماسکو نے فروری 2022 میں اپنے فوجی حملے کے آغاز کے بعد سے زیلنسکی کو نشانہ بنایا ہے۔

یوکرینی صدر نے گذشتہ سال کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ ان کے خلاف کم از کم "پانچ یا چھے" قاتلانہ حملے ناکام بنا دیئے گئے تھے۔

یوکرین میں فوج بھیجنے کے اگلے دن روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے یوکرین کی فوج سے زیلنسکی کا تختہ الٹ دینے کا مطالبہ کیا۔

روس نے متعدد غیر ملکی سیاست دانوں اور عوامی شخصیات کو اپنی مطلوب فہرست میں رکھا ہوا ہے جس میں دسیوں ہزار اندراجات ہیں۔

فروری میں ماسکو نے کہا کہ وہ اسٹونیا کے وزیرِ اعظم کاجا کالس کی تلاش کر رہا تھا جس کے بارے میں کریملن نے کہا کہ بالٹک ملک اسٹونیا کا سوویت دور کی یادگاروں کو تباہ کرنے کا اقدام "تاریخی یادداشت کی بے حرمتی" تھا۔

گذشتہ سال بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے یوکرینی بچوں کے اغوا سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات پر پوتن کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ ماسکو نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں