ایلون مسک کی یونیورسٹی مظاہروں کی مخالفت،ناقدین کا تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا مشورہ
امریکہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں جامعات میں ہونے والے احتجاج کی مخالفت کرنے پر ارب پتی ایلون مسک کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مشہور اور متنازعہ امریکی ارب پتی نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ شیئر کی۔
انہوں نے ان تبصرہ کرتے ہوئے "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا ملک مخالف سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے جانا غیر منطقی ہے"۔
تاہم اس تنقید نے تبصروں کی ایک لہر نئی کو جنم دیا۔ بعض صارفین ان کی حمایت جبکہ دوسرے مخالفت کرتے دکھائی دیے۔
Doesn’t make sense that American taxpayers are forced to fund anti-American activities https://t.co/7ZAso8wN3W
— Elon Musk (@elonmusk) May 4, 2024
اسرائیل کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرایلون مسک کی منطق کو سامنے رکھا جائے تو امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اسرائیل کو بھی نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ارب پتی کو تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا چاہیے۔ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اسرائیل کو اندھا دھند فوجی امداد اور اسلحہ فراہم کرنے کا کیا جواز ہے۔
کچھ صارفین نے لکھا کہ ٹیسلا کے مالک جنہوں نے اس جنگ کی حمایت کے لیے مہینوں پہلے تل ابیب کا دورہ کیا تھا ان کی رائے درست تھی، خاص طور پر جب امریکی پولیس نے یونیورسٹی کے احتجاج میں حصہ لینے والے لوگوں کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا تو پتا چلا کہ وہ وہاں کے طالب علم نہیں تھے۔
گذشتہ چند ہفتوں سے پورے امریکہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء غزہ کی پٹی میں مہینوں سے جاری جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ وہ صدر جو بائیڈن سے غزہ میں خونریزی روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی یونیورسٹیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسی کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کریں جو اسرائیلی حکومت کو اسلحہ فراہم کرتی ہیں۔
امریکی پولیس نے نیویارک شہر کی کولمبیا یونیورسٹی سمیت کئی یونیورسٹیوں میں کریک ڈائون کے دوران 2,000 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے کچھ کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔