ملائیشیا نے معروف بین الاقوامی سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ' فیس بک ' سے اپنے وزیر اعظم انور ابراہیم کی پوسٹس ہٹانے پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم کی یہ فیس بک پر پوسٹس حماس کے سربراہ اور دیگر قائدین کے ملاقات سے متعلق تھیں۔
مگر فیس بک جو اپ میٹا کے نام سے جانا جانے والا پلیٹ فارم ہے ۔ اس کے بارے میں یہ تاثر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے صرف اپنے خیالات اور نظریات سے اتفاق رکھنے والوں کو اس پلیٹ فارم کے آزادانہ استعمال کا موقع دیتا ہے۔
جو کوئی بھی اس سے ہٹ کر سوچ اور رائے رکھتا ہے یا اپنی آزادانہ رائے کا ایسا اظہار کرتا ہے جو میٹا کو چلانے والوں نے قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے تو ان خیالات پر مبنی پوسٹس کو منظر عام سے ہتا دیا جاتا ہے۔
اس صورت حال نے ' فیس بک' کی دنیا بھر میں مقبولیت کو کسی نہ کسی گوشے میں متاثر کیا ہے۔ نیز اس بئب الاقوامی سطح کی شہرت رکھنے واکے پلیٹ فارم کو یکطرفہ سا بنانے کی کوشش کی ہے۔
Di sela-sela jadual lawatan rasmi yang padat di Qatar, saya mengambil kesempatan bertemu delegasi Hamas yang diketuai pimpinan utamanya, Ismail Haniyeh seraya diapit oleh mantan pengerusi Khaled Mashal.
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) May 14, 2024
Selain menzahirkan ucapan takziah atas pemergian ahli keluarga Ismail yang… pic.twitter.com/AQXkUeI95r
وزیر اعظم ملائیشیا انور ابراہیم کی حماس رہنماؤں کے ساتھ ملاقات ایک عوامی نوعیت کی ملاقات تھی، اس ملاقات سے متعلق میڈیا رپورٹس بھی فیس بک نے ہٹا دی ہیں۔ ملائیشیا کی حکومت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں فیس بک انتظامیہ سے بات کرے گی اور فیس بک انتظامیہ سے اس بارے میں وضاحت طلب کی جائے گی۔
واضح رہے وزیر اعظم انور ابراہیم نے منگل کے روز حماس کی قیادت سربراہ حماس اسماعیل ھنیہ اور خالد مشعل وغیرہ سے دوحہ میں ملاقات کی ہے۔ انور ابراہیم نے اس موقع پر کہا ' ہمارے حماس کی سیاسی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن اس کے عسکری ونگ سے کوئی دخل اندازی یا تعلق نہیں ہے۔
ملائیشیا ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور مشرق بعید سے تعلق رکجھنے والا یہ ملک فلسطین کاز کی بھر پورفیس بک پوسٹس کو پہٹ حمایت کرتا ہے۔نیز اسرائیل اور فلسطینیوں کے اس دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حلا کی حمایت کرتا ہے۔
ملائیشیا کے حکومتی ترجمان فہمی فضل نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ملائیشیا کے کمیونکیشن ریگع لیٹرز کو فیس بک کے بارے میں ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فیس بک پوسٹس ہٹا دیتا ہے۔
فہمی فضل نے پچھلے ماہ اکتوبر کے دوران ہی خبر دار کیا تھا میٹا ، ٹک ٹاک کے پلیٹ فارموں سے فلسطین کاز کی حمایت پر مبنی پوسٹس کو ہٹایا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تاہم اب جبکہ ملائیشیا کو اپنے وزیر اعظم کی پوسٹ ہٹانے کے واقعے کے پس منظر کے بارے میں میٹا ۔فیس پک' کے تبصرہ کرنے سے گریز برتا ہیے۔