بیلجیئم: گینٹ یونیورسٹی نے غزہ جنگ کے باعث تین اسرائیلی اداروں سے تعلقات منقطع کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے اہم ملک بیلجئیم کی گینٹ یونیورسٹی نے اپنے انسانی حقوق کی پالیسی سے متصادم اسرائیلی پالیسوں اور کردار کے باعث تین اسرائیلی تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ اپنے روابط اور معاہدات ختم کر دیے ہیں۔ یہ اعلان بیلجئیم کی یونیورسٹی کے ریکٹر نے باقاعدہ طور پر کیا یے

خیال رہے پچھلے تقریباً ایک ماہ سے گینٹ یونیورسٹی میں اسرائیلی فوج کی غزہ میں جنگ اور اس جنگ کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کے خلاف یونیورسٹی میں احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ مظاہرین طلبہ غزہ میں جنگ بندی کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان جنگ مخالف طلبہ نے امریکہ اور یورپ کی بعض دوسری یونیورسٹیوں کی طرح مسلسل احتجاج کیا ہے اور اس دوران یونیورسٹی کے کچھ حصوں میں مسلسل پرامن دھرنا دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی انسانی حقوق پالیسی کے خلاف اسرائیلی جنگ اور انسان کشی کی پالیسی کے باعث ان مظاہرین کا یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی مطالبہ تھا کہ گینٹ یونیورسٹی غزہ جنگ کے خلاف بطور احتجاج اسرائیلی اداروں کے ساتھ اپنے معاہدات اور روابط ختم کر دے۔

بالآخر ان طلبہ کے پر امن انداز میں سامنے لائے مطالبات کو یونیورسٹی انتظامیہ نے تسلیم کر لیا ہے۔ یونیورسٹی کے ریکٹر ریک ڈی وان وال اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے گینٹ یونیورسٹی کے ہولون انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میگل گیلی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے علاوہ آتش فشانوں کے بارے میں تحقیقات کرنے مرکز کے ساتھ اپنے تعلقات کو منقطع کر رہی ہے۔'

ریکٹر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے ' فی الحال ہم گینٹ یونیورسٹی کی طرف سے سمجھتے ہیں کہ یہ تینوں ادارے ہمارے انسانی حقوق کے ٹیسٹ کے حوالے سے منفی سطح پر ہیں جو ہمارے لیے بہت پریشانی کا باعث ہیں۔'

یونیورسٹی ترجمان کے مطابق اس فیصلے سے فوری طور پر یونیورسٹی کے چار منصوبے متاثر ہوں گے۔' تاہم اسرائیلی اداروں نے بیلجئیم میں سامنے آنے والی پیش رفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے حامی ان طلبہ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ باقی اسرائیلی اداروں کے ساتھ بھی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔ جب تک اس سلسلے میں سارے معاہدے ختم نہیں کیے جاتے ہم یونیورسٹی کے مختلف حصوں میں اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے۔

یاد رہے امریکہ اور یورپ کی کئی یونیورسٹیوں میں بھی جنگ مخالف طلبہ کی جاری تحریک کی طرف سے اسی طرح کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔ یہ طلبہ اس غزہ جنگ میں عورتوں اور فلسطینی بچوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور تباہی کے بعد اسرائیل کو معمول سے ہٹے ہوئے ملک کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ جس کی پالیسیاں، فیصلے اور اقدامات انسانی حقوق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں