کانگریس سے رابطےکے بعد ’آئی سی جے‘ کے فیصلے کا جواب دیں گے: امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی رہ نماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ اس حوالے سے "مناسب جواب" تیار کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کرنے میں خوشی محسوس کرے گی۔ .

امریکی صدر جو بائیڈن نے فوری طور پرعدالت عدالت انصاف کے پراسیکیوٹر کریم خان کی جانب سے سینیر اسرائیلی اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کے اس فیصلے کو "شرمناک" قرار دیا۔

اس سے پہلے بلنکن نےبھی اٹارنی جنرل خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کریم خان عدالت کے ساتھ تعاون پر بات کرنے کے لیے اگلے ہفتے اسرائیل کا دورہ کرنے والے تھے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ کریم خان الزامات کا اعلان کرنے کے بجائے ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے۔ یہ اور دیگر حالات اس تحقیقات کے جواز اور اعتبار کے بارے میں سوالیہ نشان ہے"۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر ریپبلکن مائیک جانسن نے کہا کہ امریکی قانون ساز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی صورت میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے امکان پر غورکررہے ہیں۔

جانسن کے بیان کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے "اسرائیل کے خلاف دباؤ کی مہم" کا نتیجہ ہے۔

جانسن نے زور دے کر کہاکہ "وائٹ ہاؤس کی قیادت کی غیر موجودگی میں کانگریس آئی سی جے کو سزا دینے کے لیے پابندیوں سمیت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اگر اس کی قیادت وارنٹ گرفتاری کے ساتھ آگے بڑھے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے"۔

اس سے قبل پیر کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے پری ٹرائل چیمبر سے حماس کے 3 رہ نماؤں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو کہا تھا۔

خان کے بیان میں کہا گیا ہے: "پبلک پراسیکیوشن کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی "منطقی وجوہات" ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے رہ نما یحییٰ سنوار، تحریک کے عسکری ونگ کے رہ نما محمد الضیف اور حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، نیز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اسرائیل اور فلسطین کے علاقوں (غزہ کی پٹی میں) میں 8 اکتوبر 2023 سےجنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ دار ہیں"۔

دی ہیگ میں نو سالہ مدت کے لیے اس عہدے پر تعینات ہونے کے چند ماہ بعد خان نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات میں امریکی فوج کے مبینہ جرائم کو نظرانداز کیا اور طالبان اور داعش کی افغان شاخ کے اراکین کے مبینہ جرائم پر توجہ مرکوز کی تھی۔ اس اقدام نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تنقید کو جنم دیا اور کچھ نے اسے واشنگٹن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ’آئی سی جے‘ کی مخالفت عروج پر پہنچ گئی، جب امریکا نے عدالت کے ارکان پر پابندیاں عائد کر دیں اور سابق پراسیکیوٹر کے بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے۔ تعلقات میں بہتری کے اشارےاس وقت سامنے آئے جب صدر جو بائیڈن کے دور میں پابندیاں ہٹا دی گئیں۔

گذشتہ سال جون میں امریکی اٹارنی جنرل نے عدالت کی 22 سالہ تاریخ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کا پہلا دورہ کیا۔ میرک گارلینڈ نے خان سے ملاقات کی اور روس- یوکرین جنگ اور عدالت کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پوتین کے وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے ان کی تحقیقات کی حمایت کی۔

لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری نے پیر کو ایک خطرناک موڑ اختیار کیا، جب خان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر اپنی قانونی کوششوں کا اعلان کرنے کے لیے CNN پر نمودار ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں