امریکہ رفح میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر قائم ہے: انٹونی بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے اسرائیل کے لیے جمعہ کے روز جاری ہونے والے حکم ' اسرائیل رفح میں جنگ کو روک دیا جائے ' کے بعد کہا ہے کہ امریکہ رفح کے بارے میں اپنے پہلے سے موجود موقف پر قائم ہے۔

بلنکن نے اس موقع پر اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ نہیں نہیں کیا اس کا محض حوالہ دیا ہے۔ نہ ہی عدالت انصاف کے حکم کی تائید کے لیے کوئی جملہ اپنے بیان میں شامل کیا ہے۔

خیال رہے امریکہ رفح پر اسرائیلی حملے کی بغیر منظم منصوبے کے مخالفت کرتا رہا ہے تاکہ شہریوں ہلاکتیں کم ہوں۔ مگر رفح پر حملے کا مخالف کبھی نہیں رہا ہے۔ اس کا اختلاف جزوی اور تکنیکی نوعیت کا ہی رہا ہے۔ جیساکہ امریکہ نے اربوں ڈالر کی جنگی امداد کے تازہ فیصلے اسرائیل کے حق میں کیے مگر چند ہزار بوئنگ ساختہ 'ان گائیڈڈ' بموں کی رسیل کو جائزے کی خاطر ملتوی کر دیا۔

البتہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں بھی اسرائیل اور مصر سے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ رفح راہداری کو جلد از جلد کھولنے کے لیے بات چیت کریں۔ خیال رہے مصر اسرائیل کی فوج کے ہاتجھوں میں راہداری کے آپریشن چلے جانے کی وجہ سے اسرائیل کے مطالبے کے مطابق امدادی سامان بھیجنے سے گریز کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج رفح راہداری کا کنٹرول بین الاقوامی عدالت انصاف کے حکم کے باوجود تیار نہیں ہے۔

امریکہ نے اس سے قبل بھی مصر سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جانب سے امدادی سامان میں رکاوٹ نہ آنے دے، تاہم اسرائیل کو امریکہ اس سلسلے میں زیر بار لانے کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں