مصری ایوان صدر نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے امریکی ہم منصب جو بائیڈن نے کرم ابو سالم کراسنگ پر عارضی بنیاد پر اقوام متحدہ کی انسانی امداد اور ایندھن پہنچانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ مصری ایوان صدر نے کہا کہ کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے امداد کی ترسیل اس وقت تک عارضی رہے گی جب تک کہ فلسطینی جانب سے رفح کراسنگ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک قانونی طریقہ کار طے نہیں پا جاتا۔
مصری امریکی معاہدہ دونوں صدور کے درمیان ایک کال کے دوران طے پایا۔ دونوں نے غزہ کی پٹی میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے اور ایک ایسی پیش رفت حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے اس بات کی بھی تجدید کی کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کیا جائے گا اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف کوششوں کو یکجہا کرنے کی حمایت کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بائیڈن نے مصر سے اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو عارضی بنیادوں پر کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ بھر میں تقسیم کرنے کی اجازت دینے کے السیسی کے عزم کا خیر مقدم کیا۔
واضح رہے اسرائیلی فوج اس ماہ کے اوائل میں رفح شہر میں داخل ہوئی اور مصر کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اس کے بعد سے مصر سے آنے والی امداد کی غزہ کو ترسیل رک گئی ہے۔ یو این کے مطابق امدادی سامان کی عدم رسائی کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح پٹی میں حالات قحط کی جانب بڑھتے جا رہے ہیں۔