'اوپیک پلس ,ملکوں نے اپنی تیل کی پیداواری سٹریٹجی کو بہترین قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے مشترکہ پلیٹ فارم اوپیک پلس نے تیل کی پیداوار میں ماہ اکتوبر سے مرحلہ وار اضافے کے اپنے فیصلے کے حوالے سے اس امر کو مسترد کر دیا ہے کہ اس سے تیل کی مندی کا خطرہ ہوگا ۔ اوپیک پلس کے وزرائے تیل نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ مارکیٹ ان کے اس فیصلے کو جلد درست قرار دے گی۔

اوپیک پلس ملکوں کے اتحاد کا یہ پختہ عزم ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ تیل کی منڈی میں استحکام جلد ہی کسی بھی تبدیلی پر اپنا جواب دے گا۔ تیل پیدا کرنےو الے ملکوں کے وزیروں نے اس امر کا اظہار سینٹ پیٹرز برگ میں جمعرات کے روز انٹر نیشنل اکنامک فورم کے اجلاس میں کیا ہے۔

اس موقع پر سعودی وزیر تیل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ' اتوار کے روز کے معاہدے میں، بہت سے دیگر اوپیک معاہدوں کی طرح، اگر ضروری ہو گا تو پیداواری تبدیلیوں کو روکنے یا تبدیل کرنے کی آپشن برقرار رکھی گئی ہے۔

سعودی وزیر تیل نے کہا ' کچھ بینکوں کے تجزیہ کار اور میڈیا والے اوپیک پلس کے معاہدے کی تشریح پر تنقید کرتے رہے ۔ مگر ہم انہیں کہتے ہیں کہ وہ جلد یہ مانیں گے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ ہی درست تھا۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ بعض لوگ فون کر کے مجھے پوچھتے ہیں' کیا آپ مطمئن ہیں ۔ میں انہیں کہتا ہوں 'کیوں مطمئن نہیں ہوں گے ؟'
میں جانتا ہوں کہ ہم نے بہترین کام کیا ہے۔ ایک دو دن دے دیں، حقیقت سامنے آجائے گی۔ہم نے معاملہ سنبھالا ہوا ہے پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔

واضح رہے تیل برآمد کرنے والے ملکوں اور ان کے اتحادیوں نے اتوار کے روز فیصلہ کر کے اکتوبر میں شروع ہونے والی پیداوار میں تقریباً 2 ملین بیرل یومیہ پیداوار کو بتدریج کم کرنے پر اتفاق کیاہے۔ اس فیصلے کے بعد سے، لندن میں خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد سے زیادہ گرگئی ہے۔ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی ہے۔

تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مارکیٹ اس اضافی تیل سپلائی کو جذب کر سکتی ہے؟

سینٹ پیٹرزبرگ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروئی اور روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ایک متحد ہ محاذ پیش کیا، جس کے ذریعے اوپیک پلس معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

المزروعی نے تقریب کے بعد روسی خبر رساں ادارے طاس کو بتایا۔ ' یہ سیشن ان وضاحتوں کے کرنے کے لیے ایک تھا جس میں ہم نے کچھ وضاحت کی ہے۔'

دریں اثنا اوپیک کے سیکرٹری جنرل ہیثم الغیس نے کہا کہ تیل کی طلب اچھی اور لچکدار ہے۔ پہلی سہ ماہی میں عالمی سطح پر تیل کی کھپت میں یومیہ 2.3 ملین بیرل اضافہ ہوا ہے۔ لیکن بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اس کے بر عکس کہا ہے کہ '2024 کے پہلے تین مہینوں میں طلب توقع سے کم رہی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں