فلسطین پر مختلف موقفوں کو مربوط کرنے کے لیے ریاض ٹریک موزوں ہے: بوریل
یورپی یونین کا عرب ملکوں سے فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے کا مطالبہ
یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی کی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ فلسطین کے مسئلہ پر مختلف موقفوں کو مربوط کرنے کے لیے موزوں ترین فریم ورک ریاض کا موقف ہے۔ ادھر ’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کے لیے عرب ملکوں کو یورپی دعوت دی گئی ہے۔
انتیس اپریل کو غزہ کی پٹی میں پیش رفت کے بارے میں مشترکہ غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی بنائی گئی وزارتی کمیٹی، وزرائے خارجہ اور یورپی ملکوں کے نمائندوں نے ریاض میں اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس اجلاس میں غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے، دو ریاستی حل کو نافذ کرنے اور ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں فوری جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور مشرقی القدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام غیر قانونی یکطرفہ اقدامات اور خلاف ورزیوں کے خاتمے اور انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازع کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سیاسی راستے کی طرف بڑھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
27 مئی کو جوزپ بوریل نے اعلان کیا کہ اسے غزہ کی پٹی میں رفح کے ساتھ سرحدی مشن کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مرکزی وزرا کی جانب سے اجازت مل گئی ہے۔ جوزپ بوریل نے کہا کہ سرحدی مشن کو مصر، فلسطینیوں اور اسرائیل کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔
عرب وزارتی کمیٹی نے برسلز میں یورپی خارجہ امور کی کونسل کے سامنے ایک ویژن پیش کیا تھا جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور فلسطینی ریاست کے قیام اور 6 ماہ کے اندر حتمی حیثیت کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔