’لائیو شرمندگی‘ شمالی کورین لیڈر کی آمد سے قبل پوتین کو وفد سمیت باہر نکال دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ شمالی کوریا جانے والے وفد کے ارکان کو دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ روسی صدر کے ہمراہ آنے والے وفد کو شمالی کورین لیڈر کی آمد سے قبل ہی ہال سے نکال دیا گیا تھا۔

وجہ یہ بتائی گئی کہ وفد شمالی کوریا کے رہ نما ’کم جونگ ان‘ سے پہلے میٹنگ ہال میں داخل ہوا تھا ۔

شاید سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ ان لمحات کو کوریا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا، کیونکہ پوتین کا وفد کورین مرد آہن کے سامنے داخل ہوتا دکھائی دیا۔

ماسکو ٹائمز اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس پر انہیں دونوں رہ نماؤں سے پہلے ہال میں داخل ہونے پر میٹنگ سے غیر رسمی طور پر بے دخل کر دیا گیا۔

روسی وزیرخارجہ لاوروف بھی شامل

نکالے جانے والوں میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، وزیر دفاع آندرے بیلوسوف اور نائب وزرائے اعظم شامل ہیں۔

انہیں میٹنگ روم میں داخل ہوتے اور اپنی نشستیں سنبھالتے ہوئے دیکھا گیا، جب کہ لاوروف نے کسی ایسی چیز کے بارے میں شکایت کرنا شروع کر دی جو ان کے کپڑوں پر پڑی تھی۔ شمالی کوریا کے ایک اہلکار نے انہیں کیمرے سے دور جانے کو کہا۔

جب کہ اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہےکہ "ہمارے پاس ایک پروٹوکول ہے۔ ہم آپ کو میز پر مدعو کرتے ہیں"۔

نشریات اس وقت اچانک بند ہو گئیں جب روسی وفد کے ایک رکن نے اعتراض کیا۔

اس کے بعد وفد کو ایک خالی کانفرنس روم دکھایا گیا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا میں ایسے مواقع پر یہ رواج ہے کہ سربراہ مملکت کے ساتھ ملاقات کرنے والےرہ نما کےساتھ آنے والے وفد کو بعد میں صدر کی طرف سے بلائے جانے پر شامل کیا جاتا ہے۔

پوتین کا بدھ کے روز شمالی کوریا کے دارالحکومت میں پرتپاک استقبال کیا گیا، جب کم نے جہاز سے اترتے ہی انہیں گلے لگایا۔ اس موقعے پررقاصوں اور بچوں کے ایک گروپ نے جھنڈے لہراتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔

دونوں ممالک نےباہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس پر امریکا اور نیٹو کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں