امریکا کے ساتھ تعلقات ہمارے مستقبل کے لیے اہم ترین ہیں : اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کے روز یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کام کریں گے۔ واشنگٹن کے دورے پر آئے ہوئے گیلنٹ نے امریکا کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربرا بیل بیرنز سے ملاقات کی۔ بیرنز اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں مرکزی امریکی ذمے دار ہیں۔

امریکی ذمے دار کے ساتھ ملاقات شروع ہونے سے قبل یوو گیلنٹ نے کہا کہ "میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسرائیل بنا کسی استثنا بنیادی طور پر یرغمالیوں کی اپنے گھروں کو اور اہل خانہ کے پاس واپسی کا پابند ہے۔ ہم ان کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے"۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کی۔ تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت میں انٹونی بلنکن نے غزہ کی پٹی میں انسانی شعبوں میں کام کرنے والوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات کے بعد رخصت ہوتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس ملاقات کے موقع پر وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر درجنوں مظاہرین نے نعرے بازی کی۔ انہوں نے یوو گیلنٹ کو "جنگی مجرم" قرار دیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں فائر بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک حصے کی رہائی کے لیے 31 مئی کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں حماس تنظیم نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے تھے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ فریقین کے بیچ پُل کا کام کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق کئی برسوں سے واشنگٹن کے زیر قیادت اسرائیل اور امریکا کا اتحاد نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات سلامتی کے تناظر میں ہمارے مستقبل کے لیے اہم ترین عنصر ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں