امریکی فوج کی مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران میں بحیرہ احمر میں یمنی حوثی ملیشیا کی تین ڈرون کشتیاں تباہ کر دیں۔ کمان کے مطابق امریکی فوج نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے ضمن میں کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ (ڈرون) کشتیاں علاقے میں امریکی افواج ، اتحادی افواج اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ ہیں"۔
June 30 U.S. Central Command Update
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 30, 2024
In the past 24 hours U.S. Central Command (USCENTCOM) forces conducted a self-defense engagement, destroying three Iranian-backed Houthi uncrewed surface vessels (USVs) in the Red Sea.
It was determined the USVs presented an imminent threat… pic.twitter.com/GJN7jhmbdk
حوثی ملیشیا گذشتہ برس نومبر کے بعد سے 150 سے زیادہ تجارتی جہازوں پر حملے کر چکی ہے۔ ملیشیا کا دعویٰ تھا کہ یہ جہاز اسرائیل جا رہے تھے۔ حوثیوں نے غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے دھمکی بھی دی کہ وہ اپنے حملے کا دائرہ بحر الکائل تک وسیع کر دیں گے۔
اس کے نتیجے میں تجارتی کمپنیاں زیادہ طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئیں جس سے ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا۔
حوثیوں کے حملوں میں اضافے نے یہ اندیشے بڑھا دیے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔
ادھر امریکی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر درجنوں حملے کیے۔ اس دوران میں بحری مال بردار جہازوں کی جانب بھیجے گئے متعدد میزائل اور ڈرون طیاروں کا راستہ روک دیا گیا۔