آسٹریلین پولیس نے نوعمر لڑکے کو چاقو گھونپنے پر یونیورسٹی سے گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آسٹریلیا کی پولیس نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے صبح سویرے 14 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے۔ جس پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی آف سڈنی میں چاقو گھونپنے کی واردات کی۔

واقعہ کے بعد پولیس نے یونیورسٹی عمارت کے اردگرد لاک ڈاؤن کر دیا۔ پولیس کے ایمرجنسی سے متعلق عملہ نے ایک 22 سالہ نوجوان کا ہسپتال میں علاج شروع کرا دیا ہے۔ جس کی حالت ہسپتال میں مستحکم بتائی جاتی ہے۔ مبینہ طور پر اسے چاقو سے زخمی کیا گیا۔ یہ بات نیو ساؤتھ ویلز سٹیٹ نے ایک جاری کردہ بیان میں بتائی ہے۔

پولیس کے مطابق چاقو سے حملہ کرنے والا بچہ اس واقعہ کے بعد بس میں سوار ہو گیا۔ تاہم ہسپتال کے قریب پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے فوری کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور اور مضروب ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔

یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں پولیس یونیورسٹی میں ہی موجود رہے گی۔

پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ کو محفوظ کر لیا ہے۔ فوری طور پر پولیس نے واقعہ کے سبب یا وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔ جبکہ تحقیقات ابھی شروع ہو رہی ہیں۔

واضح رہے آسٹریلیا میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو چاقو کی فروخت ممنوع ہے۔ الا یہ کہ وہ اس کا کوئی معقول جواز پیش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں