جاپان میں ریلوے کی خبر گیری کے لیے انسان نما روبوٹ کا استعمال
عمر رسیدہ آبادی والے ملک میں افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ روبوٹس کے ذریعے حل
یہ 1980 کے عشرے کے سائنس فکشن (افسانوں اور فلموں) کے ایک شیطانی روبوٹ سے مشابہت رکھتا ہے لیکن مغربی جاپان کے ریلوے کے نئےانسان نما روبوٹ ملازم کو جو بات ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیا گیا، وہ نقاشی اور باغبانی کی جگہ ہے۔
اس مہینے کے آغاز سے ٹرک پر نصب غیر حساس سر اور کوک کی بوتل جیسی آنکھوں والی مشین -- جو ریل پر چل سکتی ہے -- کو فرم کے نیٹ ورک پر دیکھ بھال کے کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اس کا آپریٹر ٹرک پر کاک پٹ میں بیٹھ کر کیمروں کے ذریعے روبوٹ کی آنکھوں سے "دیکھتا" ہے اور اس کے طاقتور اعضاء اور ہاتھوں کو دور سے چلاتا ہے۔
12 میٹر (40 فٹ) کی عمودی رسائی کے ساتھ یہ مشین 40 کلوگرام (88 پاؤنڈ) کے برابر وزنی اشیاء لے جانے، پینٹ کرنے کے لیے برش پکڑنے اور آرا استعمال کرنے کے لیے اپنے بازوؤں کے لیے مختلف اٹیچمنٹ استعمال کر سکتی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ فی الوقت روبوٹ کا بنیادی کام ریلوں کے ساتھ درختوں کی شاخیں تراشنا اور دھاتی فریموں کو پینٹ کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہو گا جو ٹرینوں کے اوپر کیبلز رکھتے ہیں۔
کمپنی نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے عمر رسیدہ آبادی والے جاپان میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنان کے بلند جگہوں سے گرنے یا بجلی کے جھٹکے لگنے جیسے حادثات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
کمپنی کے صدر کازواکی ہاسیگاوا نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا، "مستقبل میں ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کی ہر طرح کی خبرگیری کے کاموں کے لیے مشینوں کا استعمال کرنے کی امید رکھتے ہیں اور یہ ایک کیس سٹڈی فراہم کرے گا کہ مزدوروں کی کمی سے کیسے نمٹا جائے۔"