امریکی صدر جوبائیڈن کے لیے بطور صدارتی امیدوار مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی صحت بظاہر ٹھیک ٹھاک ہے لیکن پیرانہ سالی کے باعث ان کے بعض ووٹر اور حامی ان کی جگہ کسی اور کو امیدوار کے طور پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کرنے لگے ہیں۔
کئی حامی اس بات کی شدت سے مخالفت کرتے نظر آنے لگے ہیں کہ جوبائیڈن کو صدارتی امیدواریت سے دستربردار ہو جانا چاہیے۔ ایسی ہی ایک مضبوط آواز ابیگیل ڈزنی نے بلند کر دی ہے۔ ابیگیل ڈزنی والٹ ڈزنی کی پوتی ہیں۔ ڈزنی کی کمپنی آج بھی ان کے نام سے موجود ہے۔
ڈزنی کی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے انتخابی مہم میں اس وقت تک فنڈز نہیں دے گی جب تک صدر جوبائیڈن صدارتی امیدواریت سے دستبردار نہیں ہو جاتے۔
اس طرح کی مختلف جگہوں سے آوزیں اٹھ رہی ہیں۔ مگر81 سالہ جوبائیڈن نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ سے خود کو الگ کریں گے نہ پیچھے ہٹیں گے۔ صدر جوبائیڈن پانچ نومبر 2024 کو دوسری مرتبہ صدر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان کے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان سے پہلے صدر رہ چکے ہیں ۔
البتہ سال 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوران ان سے ہار گئے تھے۔ اب وہ پھر میدان میں جوبائیڈن کا مقابلہ کرنے کے لیے اتر چکے ہیں۔ ان کی عمر بھی جوبائیڈن سے محض چند سال کم ہے۔ البتہ ظاہری صحت بہتر ہے۔ اگرچہ ان کے بعض عدالتی و قانونی معاملات ان کے لیے بھی مسائل پیدا کرنے والے ہیں۔
27 جون کو دونوں متوقع امیدواروں کے درمیان مباحثہ ہوا۔ اس مباحثے میں 81 سالہ ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کے قدرے متزلزل ہونے کا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ ان کی ظاہری حالت کو اب قریب سے جانچا جا رہا ہے۔
مباحثے کے بعد بہت سے ڈیموکریٹ ووٹروں کو اس بات کی فکر لگ گئی ہے کہ آیا وہ اگلے ساڑھے چار سال تک کام کی رفتار کو برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں۔ ان کی جماعت کے بعض لوگوں نے اسی وجہ سے جوبائیڈن سے صدارتی دوڑ سے الگ ہونے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔
نئی صورتحال جسے بعض ڈیموکریٹ دیکھنا چاہتے ہیں اس میں جوبائیڈن کی نائب صدر کملا ہیرس پانچ نومبر کے انتخابات میں ان کی جگہ لینے کی دعویدار ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے جوبائیڈن کو دستبردار ہونا ہوگا۔ مگر جوبائیڈن کے حامی سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹروں اور عطیہ دہندگان کے خدشات کو دور کر لیں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز' کو ایک ذرائع نے بتایا کہ صورت حال کوایوان نمائندگان میں درجنوں ڈیموکریٹس قریب سے دیکھ رہے ہیں اور جوبائیڈن سے یہ کہنے کے لیے تیار ہیں کہ اگر' اے بی سی' کے انٹرویو میں ناکام ہو گئے تو وہ الگ ہو جائیں۔
ڈیموکریٹس نومبر میں ایوان کے کنٹرول کو اہم سمجھتے ہی۔ اگر ٹرمپ جیت کر واپس وائٹ ہاؤس آجاتے ہیں اور ریپبلکن سینیٹ پر قبضہ کرتے ہیں تو یہ واشنگٹن میں ڈیموکریٹس کے اقتدار پر ان کی آخری گرفت ہو سکتی ہے۔ یہ ڈیموکریٹس کو کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔ اس لیے جوبائیڈن کے 'اے بی سی' کے ساتھ جمعہ کے روز ہونے والا انٹرویو فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے امیدوار جوبائیڈن ہی ہوں گے یا ان کو اب دوڑ سے نکل جانا ہوگا۔