امریکی صدراتی انتخاب: جو بائیڈن کی زبان "پھسلتے پھسلتے چار سال پیچھے جا گری"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے 'میں ٹرمپ کو 2020 میں شکست دوں گا۔' جو بائیڈن کی زبان پھر پھسل گئی پھر لڑ کھڑا گئی۔ مگر اب کی بار پھسل کر چار سال پیچھے جا گری۔ 81 سالہ امریکی صدر جو بائیڈن جنہوں نے 'سی این این 'پر اپنے مباحثے میں مد مقابل کے سامنے اپنی کمزوری کو اپنے بیمار ہونے اور تھکے ہونے کا شاخسانہ قرار دیا تھا ایک بار پھر بھلکڑ پن کا شکار ہو گئے۔

انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کہا 'میں ٹرمپ کو 2020 میں شکست دوں گا۔ وہ امریکہ میں پانچ نومبر 2024 کے متوقع صدارتی انتخاب کے لیے اپنے پر عزم ہونے اور مد مقابل پر اپنی فتح کا حامیوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

صدر جو بائیڈن جن کی پیرانہ سالہ اور غیر حاضر دماغی کا امریکہ اور امریکہ سے باہر ہر جگہ زبان زد عام ہے۔ ان سے یہ مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں کہ وہ صدارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر نکل جائیں۔ تاہم وہ اپنے آپ کو اس دوڑ سے باہر نکالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے ایک روز قبل کہا ’’کہ انہیں اس دوڑ سے اللہ ہی نکال سکتا ہے۔‘‘

تاہم ان کی زبان کے پھسل جانے کا ایک تازہ واقعہ بھی اسی دوران سامنے آ گیا ہے۔ ، یہ پہلے سے زبان کے پھسلنے کے ان کے واقعات کی لمبی سیریز کی اب تک آخری کڑی ہے۔ وہ جمعہ کے روز اپنے حامیوں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں وہ پھر ٹرمپ کو شکست دیں گے مگر انہیں نے بول دیا 2020 میں وہ ٹرمپ کو شکست دیں گے۔ ان کے الفاظ تھے' میں ٹرمپ کو شکست دوں گا، میں 2020 میں دوبارہ ٹرمپ کو شکست دوں گا۔' لیکن انہوں نے اپنے اس بیان کی اصلاح کر لی اور کہا 'میں 2024 میں دوبارہ شکست دوں گا۔ '

صدر جو بائیدن جنہوں نے 2020 میں ٹرمپ کو شکست دی تھی 2024 کے صدراتی انتخاب کے لیے ایسا کرنے کے لیے ان کے لیے یہ کافی چڑھائی کا سفر لگ رہا ہے۔ ان کے حامیوں نے بھی 27 جون کو دونوں صدارتی امیدواروں کے مباحثے کے بعد جوبائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے لیے کسی اور کو ڈیمو کریٹ امیدوار بننے کا موقع دیں۔ مگر جمعہ کے روز انہوں نے ریلی سے خطاب میں کہا 'میں ہی امیدوار رہوں گا اور میں دوبارہ جیتوں گا۔'

صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا' میں دوڑ میں موجود رہون گا اور ٹرمپ کو شکست دوں گا۔ ' کہ' اپنے ری پبلکن حریف کو ہرانے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ '

اکیاسی سالہ جو بائیڈن ان کے ووٹروں اور حامیوں کے علاوہ ڈیموکریٹس کی سینئیر سطح سے بھی مطالبہ کیے جانے لگا ہے کہ کسی اور کو موقع دیں ، بصورت دیگر کانگریس میں ڈیموکریٹ کو سینیٹرز کی کئی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

یہ بھی اہم ہے کہ جو بائیڈن نے تسلیم کیا ہے کہ مباحثے میں وہ مد مقابل کے سامنے اچھے نہیں برے رہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ یہ 90 منٹ کی بحث میں ساڑھے تین برسوں کی کارکردگی پر حاوی کیسے ہو سکتے ہیں۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے بھی دوٹوک کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے جو بائیڈن ہی صدارتی امیدوار ہوں گے۔ صدارتی دوڑ سے ان کے نکل جانے کا سوال ہی پید نہیں ہوتا۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرین جین پیئرے نے کہا ' صدر جو بائیڈن صدارتی امیدار بننے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں