بھارت: مذہبی تقریب میں بھگڈر کے مرکزی منتظم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا
خود ساختہ دیوتا ’’بھولے بابا‘‘ کے زیر انتظام تقریب میں ڈھائی لاکھ نے شرکت کی جبکہ اجازت صرف اسی ہزار کی تھی
ہندوستان میں ایک مذہبی مبلغ کی تقریب کے منتظمِ اعلیٰ نے جمعہ کے دن خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ بات مبلغ کے ایک وکیل نے بتائی۔ تقریب میں بھگڈر مچ جانے سے 121 افراد ہلاک ہو گئے۔ منتظم نے گرفتاری پولیس کی جانب سے تلاشی اور چھاپوں کی کارروائی شروع کرنے کے بعد دی۔
پولیس میں درج کردہ ابتدائی رپورٹ میں دیو پرکاش مدھوکر کو ایک اہم ملزم نامزد کیا گیا تھا جس پر قابلِ مواخذہ قتلِ عام کی کوشش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دینے پر 100,000 بھارتی روپے (1,200 ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا تھا۔
خود ساختہ دیوتا ’’بھولے بابا‘‘ کے وکیل اے پی سنگھ نے کہا کہ مدھوکر منگل کو ہندوؤں کی مذہبی تقریب کا مرکزی منتظم تھا جس میں شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں تقریباً 250,000 لوگوں نے شرکت کی۔ ضلعی حکام نے صرف 80,000 لوگوں کے پروگرام کی اجازت دی تھی۔
سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا، "اس نے دہلی سے گرفتاری دے دی ہے۔ ہم پیشگی ضمانت نہیں مانگ رہے۔" انہوں نے تقریب کے منتظمین کی طرف سے کسی غلط کام کی تردید کی اور کہا کہ افراتفری کے بعد دیو پرکاش ہسپتال میں علاج کروا رہے تھے۔
مبلغ نے ہفتے کے روز کہا، وہ اس واقعے سے غمزدہ ہیں اور ان کے معاونین زخمیوں اور ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کی مدد کریں گے۔
انہوں نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا: ’’مجھے یقین ہے کہ افراتفری پھیلانے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔"