برطانیہ کے انتخابات میں لیبر پارٹی نے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی اور کیئر سٹارمر نئے وزیر اعظم بن گئے۔ سٹارمر کا برطانیہ میں وزیر اعظم کے طور پر پہلا مہینہ بین الاقوامی سفارتی واقعات سے بھرا ہو گا۔ ان میں خاص طور پر امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی۔
عالمی منظر نامے پر چند دنوں میں انہیں کچھ اولین کام کرنے ہوں گے ۔ وہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے اپنے قیام کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس منگل سے اگلی جمعرات تک واشنگٹن میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس کے بعد سٹارمر 18 جولائی کو وسطی انگلینڈ کے آکسفورڈ کے قریب بلین ہائیم پیلس میں یورپی سیاسی گروپ کے اجلاس کی میزبانی کریں گے۔ اس اجلاس میں فرانسیسی صدر میکرون اور جرمن چانسلر اولاف شولز کی شرکت متوقع ہے۔
لیبر پارٹی نے ایک حقیقت پسندانہ اور ترقی پسند خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کا عہد کیا ہے۔ سٹارمر نے اپنی کابینہ کا بھی اعلان کردیا ہے اور ان کے سیکرری خارجہ ڈیوڈ لمی ہیں۔ ڈیوڈ لمی کہ چکے ہیں کہ ایک زیادہ غیر مستحکم دنیا کی موجودگی میں سب کچھ وہ نہیں ہوگا جو ہم چاہیں گے۔ سٹارمر دنیا کے دو بڑے بحرانوں سے کیسے نمٹیں گے؟
اسرائیل فلسطین تنازع
لیبر پارٹی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے ۔ ایسے امن کا قیام جو دو ریاستی حل کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن اس نے ایسا کرنے کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل طے نہیں کیا ہے ۔ پارٹی کے دیگر وعدوں میں فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا، تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ تک پہنچنے والی امداد کی رقم میں اضافہ شامل ہے۔
سٹارمر نے امن کی تجاویز اور دو ریاستی حل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں امن کی تجاویز اور دو ریاستی حل کی طرف واپس جانے کی ضرورت ہے جو حماس نے ہم سے جان بوجھ کر چھین لی ہیں۔
یوکرین
لندن کیو کا کٹر حامی ہے اور اس نے روسی حملے کو پسپا کرنے میں مدد کے لیے رقم، ہتھیار اور فوجی تربیت فراہم کی ہے۔ لیبر پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو یوکرین کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ توقع ہے کہ سٹارمر یوکرین کے صدر زیلنسکی سے جلد ملاقات کریں گے تاکہ وہ ذاتی طور پر اس پیغام کی تصدیق کر سکیں۔ سٹارمر نے کہا کہ روسی صدر پوتین سے ملاقات اس وقت میز پر نہیں ہے۔ سٹارمر نے انہیں یوکرین میں جارحیت کرنے والا قرار دیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سب سے اہم بات بالکل واضح ہونا ہے کہ یوکرین کے لیے ہماری حمایت اس ملک میں متحدہ محاذ پر ہے۔ دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک بڑھانے کے لیے حکومت کے پہلے سال کے دوران سٹریٹجک دفاعی جائزہ لیا جائے گا۔
یورپ
یورپ میں سٹارمر نے اقتدار میں آنے کی صورت میں فرانس میں دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہم منتخب ہوئے تو میں یورپ اور دنیا بھر میں کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کروں گا۔ میرے لیے سنجیدہ حکومت کا یہی مطلب ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس کے ساتھ دوطرفہ معاہدے اور پوری یورپی یونین کے ساتھ معاہدے چھوٹی کشتیوں میں سمندر عبور کرنے والے تارکین وطن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اہم تھے۔
قومی ریلی کی رہنما میرین لی پین کی یورپی یونین کی سطح پر سودوں پر دو طرفہ سودوں کی ترجیح کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سٹارمر نے زور دیا تھا کہ یہ ہماری پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ فرانس کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کو مضبوط اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر کشتیوں پر لوگوں کو بٹھانے والے گروہوں کو ختم کرنے کے حوالے سے معاہدوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔