وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ بعض امریکی نوجوانوں میں انتہائی بائیں بازو کے نظریات کی حمایت میں اضافہ بنیادی طور پر ''سستی'' اور تعلیمی اداروں میں ''لبرل نظریات کی تلقین'' کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یہ بات اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ''ایکس'' پر اپنے بیان میں کہی، جس میں انہوں نے گزشتہ ہفتے ''فوکس نیوز'' کو دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے اپنی باتوں کی مبینہ غلط تشریح پر ردعمل دیا۔
لیویٹ نے کہا کہ ایک عنصر سستی ہے اور دوسرا ہمارے تعلیمی نظام میں طویل عرصے سے جاری لبرل تلقین ہے۔ ان کے مطابق بعض اساتذہ، خصوصاً انتہائی بائیں بازو سے وابستہ افراد، طلبہ کو ایسے خیالات دیتے ہیں۔ جو انہیں محنت اور ذاتی جدوجہد کی بجائے حکومت پر انحصار کی طرف مائل کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے بیانات کا مقصد تمام نوجوانوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنریشن زی کے بہت سے نوجوان محنتی، باصلاحیت اور محب وطن ہیں اور وہ امریکی خواب کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ تعلیمی مواقع کو وسیع کرنا اس رجحان کا ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے جس کے تحت ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں ریڈیکل بائیں بازو کے خیالات کو فروغ مل رہا ہے۔
اس سے قبل فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں لیویٹ نے کانگریس میں کمیونزم کے مکمل انقلاب کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اسے گزشتہ 250 برسوں میں امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد ڈیموکریٹ سیاست دانوں، بالخصوص ڈیموکریٹک سوشلسٹ رجحان رکھنے والے افراد کوکمیونسٹ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ سوشل ڈیموکریٹک نظریات کے حامل ہیں، نہ کہ کمیونزم کے۔
حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض بائیں بازو کے امیدواروں کی کامیابی، خصوصاً نیویارک شہر کے ایسے حلقوں میں جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے، نے پارٹی کے اندر تشویش کو جنم دیا ہے اور ریپبلکنز کی جانب سے اس رجحان پر تنقید کو مزید تقویت دی ہے۔
یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر ماؤنٹ رشمور اور نیشنل مال میں اپنی تقاریر کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خبردار کرتے ہوئے کہا:ہمارے سپاہیوں نے دنیا بھر کے میدانِ جنگ میں کمیونزم سے اس لیے نہیں لڑا کہ یہ یہاں امریکہ میں دوبارہ سر اٹھائے۔ ہم اسے کبھی ہونے نہیں دیں گے۔
دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس سے قبل بائیں بازو کی عوامی مقبولیت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور اسے ایک حقیقی سیاسی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔