کملا ہیرس بائیڈن کی متبادل ڈیموکریٹ لیڈر جن سے ٹرمپ بھی خوف زدہ ہیں

امریکی نائب صدر کا نام جوبائیڈن کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا مگر کملا خود صدر بائیڈن کی حمایت کے لیے پرعزم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے موجودہ صدر جوبائیڈن اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے آنے والے صدارتی الیکشن کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار ہیں مگر وقت گذرنے کے ساتھ جوبائیڈن کی ذہنی صلاحیت کی وجہ سے ان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

یہی وجہ ہےکہ امریکہ میں بالعموم اور ڈیموکریٹک پارٹی میں بالخصوص صدر بائیڈن کے متبادل امیدوار کے لیے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اس حوالے سے ڈیموکریٹس کی نظریں نائب صدر کملا ہیرس پر ہیں جو متوقع صدارتی امیدوار بن سکتی ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور کملا ہیرس نے بھی صدر بائیڈن کے شانہ بہ شانہ الیکشن مہم میں بائیڈن ساتھ دینے کا عزم کیا ہے۔

اس کے باوجود حالیہ ایام میں کملا ہیرس کو جوبائیڈن کے متبادل امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران کملا ہیرس نے صدر بائیڈن کی موجودگی میں یہ تاثر دیا کہ وہ بائیڈن کی الیکشن مہم میں ان کے ساتھ ہیں اور ایک ٹیم ممبر کے طور پرکام کررہی ہیں۔

لیکن کملا ہیرس کا ستارہ بائیڈن سے دور چمکنے لگا ہے۔ بات انھیں ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار بنانے کے لیے مزید سنجیدہ ہو گئی ہے۔ اسی پیش رفت کے تحت امریکہ کی پنسلوانیا، کینٹکی اور الینوائے جیسی ریاستوں کے گورنروں کے نام نائب صدر کے عہدے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہیرس کی ایک ملی جلی تاریخ ہے۔ اگرچہ حکومت اور سیاست میں انہوں نے کئی کامیاب کام کیے مگرامیگریشن کے حوالے سے وہ اپنی پالیسی پرکامیاب نہیں ہوسکیں۔ ان کے اپنے عملے کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں تھے، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی۔ مگر اس کے باوجود رائے عامہ کے جائزوں میں انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے۔

چونکہ ٹرمپ جوبائیڈن کے بڑھاپے کواپنی کامیابی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کی کوشش ہےکہ ان کی جگہ کوئی دوسرا نہ آئے۔ مگر کملا ہیرس کو صدارتی امیدوار نامزد کیے جانے سے ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہوگی اور اس تبدیلی سے ٹرمپ اوران کی جماعت بھی خائف ہے۔

اس کے علاوہ افریقی اور ایشیائی نسل کی خاتون کے طور پر وہ پارٹی کی بنیاد، نوجوانوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہیں۔ اگر وہ جیت جاتی ہیں تو وہ ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کریں گی۔

ہیرس نے اپنی آواز اور پیغام دوبارہ پہنچایا اور ثابت قدمی سے اپنے صدر کا دفاع کیا، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ فنانسرز اور پارٹی کے کچھ رہ نما انہیں صدر کے متبادل کے طور پر چاہتے ہیں۔ انہیں اب اس بات پر یقین نہیں ہے کہ بائیڈن ٹرمپ کو شکست دے سکتے ہیں یا مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھی نبھا سکتے ہیں۔

مہم کے لیے مالی امداد کی منتقلی بھی ہیرس کی نامزدگی کے ساتھ بہتر ہوجائے گی۔ گذشتہ تین سالوں کے دوران حکومت میں ان کا تجربہ انھیں سب سے زیادہ حقیقت پسند امیدوار بنائے گا۔ اس کے علاوہ غزہ میں جنگ کے حوالے سے ان کی پالیسی صدر سے کچھ مختلف ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے لیے زیادہ ہمدردی ظاہر کی ہے۔ اسی ہمدردی کے تحت مشی گن میں انہیں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔

کملا ہیرس کے ستارے عروج پر ہیں۔اپنے پہلے ردعمل میں واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم نے امریکی نائب صدر کے خلاف حملے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا، کیونکہ وہ ممکنہ صدارتی امیدوار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں