وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے بدھ کو سی این این کو بتایا، امریکہ غزہ جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں "محتاط طور پر پر امید" ہے۔ انہوں نے مزید کہا، فریقین کے درمیان خلا کم کیا جا سکتا ہے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ بندی کا معاہدہ قریب تھا تو انہوں نے کہا، "ہم محتاط طور پر پرامید ہیں کہ چیزیں اچھی سمت میں جا رہی ہیں۔"
نیز انہوں نے کہا، "فریقین کے درمیان بدستور خلا باقی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس خلا کو کم کیا جا سکتا ہے اور بریٹ میک گرک اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اس وقت یہی کوشش کر رہے ہیں۔"
صدر جو بائیڈن نے مئی کے آخر میں تین مراحل پر مشتمل ایک تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد جنگ بندی، غزہ میں یرغمالیوں اور اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیل کا انخلاء اور ساحلی علاقے کی تعمیرِ نو ہے۔
برنز اور شرقِ اوسط کے امریکی ایلچی میک گرک جنگ بندی معاہدے پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے علاقائی ہم منصب افراد سے شرقِ اوسط میں ملاقات کر رہے ہیں۔
حماس نے امریکی منصوبے کا ایک اہم حصہ قبول کر لیا ہے اور اس مطالبے سے دست بردار ہو گئی ہے کہ اسرائیل معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے مستقل جنگ بندی کا عہد کرے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کو دوبارہ لڑائی شروع کرنے سے نہ روکے جب تک کہ اس کے جنگی مقاصد پورے نہ ہو جائیں۔ جنگ کے آغاز میں اس نے حماس کو نیست و نابود کرنے کا عہد کیا تھا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے بدھ کے روز میک گرک کو بتایا، وہ غزہ جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے لیے پرعزم ہیں بشرطیکہ اسرائیل کی بیان کردہ حدود کا احترام کیا جائے۔
یاد رہے کہ غزہ جنگ میں اب تک 39 ہزار کے قریب فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ علاقے میں قحط کی سی صورتِ حال ہے۔