اپنے روایتی حریف پر حملہ کرنے کے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انسٹاگرام اور ٹروتھ سوشل اکاؤنٹس پر ایک مختصر ویڈیو پوسٹ کی۔ اس پوسٹ میں ہالی ووڈ سٹار جارج کلونی کو یوں دکھایا گیا جیسے وہ صدر جو بائیڈن سے بات کر رہے ہوں اور انہیں یقین دلا رہے ہوں کہ "یہ کام پر آپ کا آخری ہفتہ ہے۔"
کمپوزٹ ویڈیو میں کلونی کو ان کی ایک فلم کے ایک حصے میں دکھایا گیا ہے جب کہ امریکی صدر کا ایک کلپ اس طرح تیار کیا گیا تھا جیسے وہ اپنے پیارے ستارے کو سن رہے ہوں۔ وہ جو کچھ سن رہے تھے اس پر انہیں یقین نہیں آیا، انہوں نے کہا " رات میرا برا حال تھا" گویا وہ اپنی خراب کارکردگی کی وجہ بتا رہے تھے۔
ٹرمپ کی طرف سے پوسٹ کردہ کلپ میں کلونی نے کہا "آپ اور میں آج یہاں بیٹھے ہیں کیونکہ یہ آپ کا کام پر آخری ہفتہ ہے اور یہ آپ کی پیداواری صلاحیت کا اندازہ نہیں ہے۔ اسے ذاتی طور پر نہ لینے کی کوشش کریں۔ بائیڈن کلونی کے سامنے بیٹھےہیں۔ انہوں نے کلونی کی بات سنی اور چونک گئے اور اس انداز میں بات کی جیسے وہ جو سن رہے ہیں اس پر انہیں یقین نہیں آرہا اور کہا "میری رات بہت بری گزری" ۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سے امریکی صدر بائیڈن سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے مطالبات جاری ہیں۔ اب مشہور اداکار جارج کلونی، جو ڈیموکریٹس کے حامی ہیں، نے بھی بائیڈن سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا نیو یارک ٹائمز میں "میں جو بائیڈن سے محبت کرتا ہوں لیکن ہمیں ایک نئے نامزد کی ضرورت ہے۔" کے عنوان سے مضمون آیا ہے۔
کلونی نے مضمون میں لکھا ہے کہ "میں ایک تاحیات ڈیموکریٹ ہوں، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اپنی پارٹی کے جمہوری عمل میں حصہ لینے اور اپنے منتخب کردہ امیدوار کی حمایت میں میں نے چند سب سے بڑی فنڈ ریزنگ مہم کی قیادت کی ہے۔ میں نے 2012 میں باراک اوباما اور 2016 میں ہلیری کلنٹ اور 2020 میں بائیڈن کی مہم میں حصہ لیا۔
انہوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ گزشتہ ماہ میں نے صدر بائیڈن کے دوبارہ انتخاب کے لیے کسی بھی ڈیموکریٹک امیدوار کی حمایت میں اب تک کی سب سے بڑی فنڈ ریزنگ مہم کی مشترکہ میزبانی کی۔ ہالی ووڈ سٹار نے کہا میں جو بائیڈن سے پیار کرتا ہوں، میں انہیں ایک دوست سمجھتا ہوں اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ گزشتہ چار سالوں میں انہوں نے بہت سی لڑائیاں جیتی ہیں۔ لیکن واحد جنگ جو جو بائیڈن جیت نہیں سکتے وہ وقت کے خلاف ان کی جنگ ہے۔ تین ہفتے قبل فنڈ ریزنگ تقریب میں جو امریکی صدر ان کے ساتھ تھے وہ وہی نہیں تھے جنہیں میں 2010 سے جانتا ہوں اور جو 2020 میں تھے۔
کلونی نے کہا ہے کہ ’’کیا وہ تھکے ہوئے تھے؟ جی ہاں۔ ہم سب ٹرمپ کے دوسری بار جیتنے کے امکان سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ ہم نے تمام انتباہی علامات کو نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی مباحثہ میں بائیڈن کی تباہ کن کارکردگی کے بعد عوامی شخصیات کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئے جو بائیڈن سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اب کلونی بھی ان شخصیات میں شامل ہوگئے ہیں۔