امریکی میں جیسے جیسے صدارتی الیکشن کے مقابلے میں شدت آرہی ہے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم تیز کر رہے ہیں۔ اب وہ پنسلوانیا میں انتخابی مہم چلائیں گے۔ دوسری طرف موجودہ صدر جو بائیڈن کے اتحادی انتخابی ریلیاں نکالنے کے لیے کئی ریاستوں کا رخ کریں گے تاہم صدر بائیڈن کی بطور امیدوار قابل عمل ہونے پر ڈیموکریٹک پارٹی میں بحران جااری ہے۔ بائیڈن کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف بھرپور مہم چلانے کی صلاحیت پر بھی تنازع ہے۔ بائیڈن کی نائب کملا ہیرس، خاتون اول جِل بائیڈن اور بائیڈن کے دیگر معاونین صدر کی جانب سے مہم چلانے کے لیے پورے مڈویسٹ میں سفر کریں گے۔
بائیڈن جمعہ کے روز ڈیٹرائٹ میں ایک شعلہ انگیز تقریر کرنے کے بعد مارچ میں اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے بعد شاید سب سے مضبوط مظاہرہ کرنے کے لیے ہفتے کے آخر میں ڈیلاویئر کے ریہوبوتھ بیچ کی طرف روانہ ہوئے۔ بائیڈن سے دوبارہ انتخاب کی امیدواری ختم کرنے اور ایک نوجوان امیدوار کے لیے راستہ بنانے کا مطالبہ جاری ہے۔ بائیڈن کی مہم نے اصرار کیا ہے کہ پارٹی اختلافات سامنے آنے کے بعد دو ہفتوں کے اندر ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے اپنے امیدوار پر متحد ہو جانا چاہیے۔
ہفتے کی صبح اوہائیو میں ڈیموکریٹک کنونشن کے باہر جمع ہونے والے متعدد مظاہرین نے صدر بائیڈن سے دوبارہ الیکشن کی اپنی امیدواری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وِل پیٹرک ایک ڈیموکریٹ نے ’’بائیڈن کو چھوڑ دو‘‘۔ اور "تمام اعتماد کھو چکے ہیں" کے بینر پکڑ رکھے تھے۔ انہوں نے کہا اب تمام سوالات ان کی ذہنی صلاحیت اور عمر کے بارے میں ہوں گے۔