کووڈ کی ابتدا کے بارے میں ’ذہن کھلا ‘ رکھیں: سابق امریکی طبی مشیر انتھونی فاؤچی

یہ لیب سے لیک نہیں ہوا بلکہ جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق طبی مشیرِ اعلیٰ انتھونی فاؤچی کی نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا، کووڈ-19 کی ابتدا لیب میں کسی حادثاتی لیک کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ یہ بات کہنے کے لیے مضبوط اعداد و شمار موجود ہیں۔

ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتے ہوئے فوکی نے کہا، "اگرچہ یہ بات قطعی اور حرفِ آخر نہیں ہے لیکن ڈیٹا ظاہر کرتا ہے اور سختی سے یہ بتاتا ہے کہ یہ جانوروں کے ذخیرے سے چھلکنے کے قدرتی عمل سے پھیلا تھا۔" اگرچہ اس سلسلے میں کوئی حتمی اور قطعی نتیجہ بہت کم موجود ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے "ذہن کھلا" رکھنے کی تاکید کی ہے۔

کووڈ-19 کی ابتداء کے مسئلے نے سائنس دانوں اور شعبہ صحت کے اہلکاروں کو بھی حیران و پریشان کر دیا ہے جنہوں نے اعلانیہ طور پر ان دعووں پر مزید تحقیق کا مطالبہ کیا ہے کہ مہلک بیماری کا وائرس لیبارٹری میں لیک ہو جانے سے پیدا ہوا۔

بعض مطالعات مثلاً 2020 میں لانسیٹ جرنل میں شائع شدہ ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس لیب سے پیدا نہیں ہوا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس وائرس کی ابتدا چین کے شیر ووہان میں گوشت کے ایک بازار سے ہوئی جہاں وائرس ممکنہ طور پر جانوروں سے لوگوں کو لگ گیا۔

فاؤچی نے کہا، "تسلسل کے ساتھ انسانوں کا جانوروں سے واسطہ پڑنے" کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا اور ہمسایہ علاقوں میں وائرس کی ابتدا کے مقامات "بکثرت" ہیں۔"

ڈاکٹر نے کہا، "گوشت اور جانوروں کے جو بازار ہم جنوب مشرقی ایشیاء، چین اور مشرقِ بعید میں دیکھتے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کو جانوروں کے قریب رکھا جاتا ہے جن میں وائرس کی پرورش کا امکان ہوتا ہے جو انسانوں کو متأثر کر سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر آپ کئی عشروں پر نظر ڈالیں تو تاریخی طور پر انسان میں تمام نئے انفیکشنز میں سے 75 فیصد جانوروں سے منتقل ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ جانوروں کے ذخیرے سے انسان کو لگ جاتے ہیں۔ اور ہم نے یہ بات سالوں سے مسلسل دیکھی ہے۔"

حفاظتی اقدامات

2020 میں پھیلنے والے اس وائرس سے 70 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں حالانکہ اس کو روکنے کے لیے کافی تیزی سے متعدد حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے جن میں لازمی سماجی فاصلہ، چہرے پر ماسک پہننا اور ویکسینیشن شامل تھے۔

جنوری میں امریکی کانگریس نے بند کمرے میں سماعت میں فاؤچی سے فاصلاتی پالیسیوں اور دیگر اقدامات کے بارے میں تفتیش کی جو طبی مشیر کی حیثیت سے ان کے دور میں نافذ ہوئیں۔ 2022 میں اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد یہ پہلی عوامی گواہی تھی۔

چھے فٹ کے فاصلے کی پالیسی کے بارے میں سوال پر فاؤچی نے جواب دیا کہ یہ رہنما خطوط ان کے نہیں تھے بلکہ امراض کے کنٹرول کے ایک مرکز (سی ڈی سی) کے وضع کردہ تھے اس سے پہلے کہ سائنس دانوں کو یہ سمجھ آتی کہ نیا وائرس صرف ایک خاص فاصلے پر چھینٹوں سے نہیں پھیلتا تھا۔

العربیہ سے اس اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "چھے فٹ کے اصول کی اصل بنیاد یہ قیاس تھا کہ وائرس کے پھیلنے کا واحد ذریعہ چھینٹے/قطرے تھے جو غلط نکلا۔"

انہوں نے سویڈن کی مثال دی جہاں کووڈ-19 کیسز اس کے ہمسایہ سکینڈے نیوین ممالک سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا، "سویڈن میں وہ معاشرتی فاصلے کے حوالے سے بہت زیادہ لاپرواہ تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہیں دیگر سکینڈے نیوین ممالک کے مقابلے میں اس بیماری کا بہت زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ اس لحاظ سے سویڈن ایک اچھی مثال ہے۔ جب آپ معاشرتی فاصلہ نہیں رکھتے ہیں تو آپ کے انفیکشن میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔"

بنیادی طور پر اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافِ رائے کی وجہ سے فاؤچی کو ریپبلکنز کی طرف سے ناپسندیدگی بھی برداشت کرنا پڑی۔

ٹرمپ کے ساتھ خراب معاملات کی وضاحت کرتے ہوئے فاؤچی نے العربیہ کو بتایا: "صدر ٹرمپ کے ساتھ میرے ابتدائی چند مہینوں میں بہت اچھے تعلقات تھے۔ یہ تب ہی تھا جب انہیں احساس ہو رہا تھا کہ وائرس ختم ہونے والا نہیں تھا اور مجھے کہنا پڑا یہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ اور پھر جب انہوں نے کہنا شروع کیا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن سے علاج ہو جائے گا تو مجھے کہنا پڑا کہ یہ علاج نہیں ہے کیونکہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے۔ اس وقت ہمارا تعلق تھوڑا کشیدہ ہو گیا۔"

فاؤچی استعفیٰ دینے سے پہلے چند سال تک جو بائیڈن انتظامیہ کے تحت طبی مشیر کے عہدے پر فائز رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں