یورپی یونین کے جوزپ بوریل کا العربیہ کو انٹرویو

اسرائیل-غزہ جنگ اور یورپی یونین کے مستقبل پر تبادلۂ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کے اعلیٰ نمائندہ جوزپ بوریل نے ایک گہرے انٹرویو کے لیے العربیہ سے بات کی۔ ایک تجربہ کار سفارت کار اور یورپی یونین کے بیرونی اقدامات کی تشکیل میں ایک اہم شخصیت کے طور پر بوریل نے دنیا کے بعض شدید ترین دباؤ والے تنازعات اور سفارتی چیلنج حل کیے ہیں۔

اس انٹرویو میں انہوں نے العربیہ کے نمائندہ نورالدین فریدی سے غزہ میں جاری تنازعے کے بارے میں بات کی جو اب دسویں مہینے میں داخل ہو گیا ہے۔ بوریل نے مسلسل تشدد، اسرائیلی حکومت کے جنگ بندی کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرنے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کے مضمرات کے حوالے سے یورپی یونین کے مؤقف پر اپنی بصیرت کا اشتراک کیا۔ دونوں نے یورپی یونین کی داخلی حرکیات پر بھی بات کی۔

بوریل نے غزہ جنگ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کی شمولیت بالخصوص اسرائیل کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی اور ممکنہ قانونی اثرات سے متعلق سوالات کا بھی جواب دیا۔ بوریل نے یورپی یونین کے اندر تقسیم کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اسرائیل کے ساتھ متوقع ایسوسی ایشن کونسل کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کیں۔

بوریل کا دور چونکہ نومبر میں اختتام پذیر ہو رہا ہے تو انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کی عکاسی کی بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں بطورِ صدر ممکنہ واپسی اور یوکرین اور غزہ میں جاری تنازعات پر اس کے اثرات کی روشنی میں۔ آخر میں بوریل نے اپنے دور کے دوران اپنی اہم ترین کامیابیوں اور ان باتوں کا اشتراک کیا جن پر انہیں افسوس ہے۔ اس طرح انہوں نے یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار کے طور پر اپنی میراث کی ذاتی جھلک پیش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں