"غزہ: عارضی امریکی بندر گاہ 20 دن بروئے کاررہنے کے بعد ختم، مشن مکمل کر لیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ نے دو ماہ سے زائد مدت میں ہنگامی بنیادوں پر غزہ سے متصل بنائی گئی اپنی عارضی بندرگاہ کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ 21 مئی کے بعد سے آپریشنل ہونے والی یہ عارضی بندر گاہ ایک ماہ سے بھی کم مدت کے لیے آپریشنل رکھی گئی۔ جبکہ اس سے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان اور خوراک کی آمد اس سے بھی کم دنوں کے لیے ممکن بنائی گئی۔

اس قدر عجلت میں بندر گاہ کے بنانے اور اس قدر عجلت میں اسے ختم کرنے کے بارے میں کوئی ٹھوس بنیاد فراہم نہیں ہو سکی۔ کہ جن غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امریکی پینٹا گون کے اہلکاروں نے یہ بندرگاہ بنائی تھی اس قدر جلدی اس کی ضرورت باقی نہ رہنے کا خیال کس طرح ممکن ہوا کہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے معاملات تو آج بھی دگر گوں ہیں۔

امریکہ کی طرف سے عارضی بندر گاہ کی بندش کے اعلان کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب امریکہ قبرص کی بندر گاہ سے آنے والی امداد کے لیے اسرائیلی شہر اشدود کی بندرگاہ استعمال کرے گا۔

مشرق وسطیٰ کے لیے تعینات ایک امریکی کمانڈر نے صحافیوں کو بتایا فون کال پر بتایا ' عارضی بندر گاہ سے جو مشن مکمل کرناتھا وہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے غزہ میں امداد کی بہت وسیع پیمانے پر ترسیل ممکن بنالی گئی ہے۔ '

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے مزید کہا ' بندر گاہ مجموعی طور پر 20 دنوں سے تھوڑی سی زیادہ دیر کے لیے استعمال کی گئی۔اس سے جو کام لینا تھا وہ مکمل کر لیا گیا ہے اس لیے اب اس کی ضرورت نہ رہی ہے۔ '

ڈپٹی کمانڈر نے مزید کہا ' اس بندر گاہ سے لے غزہ جانے والی امداد اور خوراک سے پانچ لاکھ فلسطینیوں کو غزہ میں ایک ماہ تک خوراک ملی۔ یہ ایک تاریخی اور بے مثال قسم کا آپریشن تھا۔کہ ایک جنگی زون میں امداد اس قدر وسیع پیمانے پر پہنچائی گئی۔ جبکہ زمین پر امریکہ کا اپنا کوئی فوجی بھی موجود نہ تھا۔'

ری پبلکن پارٹی کے اہم سینیٹر اور اس عارضی بندر گاہ کے سخت ناقد روجر وکر نے تقریبا دو گنا اخراجات اس عارضی بندر گاہ کے لیے برداشت کیے گئے جتنا کہ اس سے فائدہ اٹھایا گیا یا کام لیا گیا۔ روجر وکر سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا بھی حصہ ہیں۔

روجر وکر کے بقول اس بندر گاہ پر اٹھنے والے اخراجات سے عراق و شام میں تعینات فوجیوں کی حفاظت کے لیے 1200 ڈرون حملے روکنے کے لیے ' انٹر سیپٹرز ' خریدے جا سکتے تھے۔

سینیٹر روجر وکر نے کہا اس ناکام منصوبہ جوبائیڈن کی یاد داشت سے تو ختم ہو سکتا ہے لیکن اس منصوبے کے نتیجے میں امریکہ کو جو شرمندگی اٹھانا پڑی ہے وہ کم نہیں ہوگی۔ صرف ایک اچھی بات ہوئی اس کے حوالے سے امریکہ کا ایک بھی فوجی مرا نہیں ہے۔

عارضی بندر گاہ کے بارے میں امریکہ نے کہا تھا کہ اس کا مقصد زمینی راستوں کو تبدیل کرنا تھا، اسے ساحلی پٹی سے منسلک ہونے کے دو ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد شدید نقصان پہنچا ۔ خراب موسم اور اونچی لہروں کی وجہ سے سمندری صورت حال نے بھی غزہ کے لیے اس مشن کی مدد کرنے والے امریکی فوج کے چار جہاز متاثر ہوئے۔ دو بندر گاہ کے قریب پھنسے ہوئے تھے، اور باقی دو ابتدائی نقصان کے دوران اشکیلون کے قریب اسرائیلی ساحل پر پہنچ گئے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں