آسٹریلیا کے فیلڈ ہاکی کے کھلاڑی میٹ ڈاسن پیرس اولمپکس میں حصہ لینے کے لیے غیر معمولی حد تک چلے گئے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ تیسری بار گیمز کے لیے فٹ ہو جائیں گے، انہوں نے اپنی انگلی کا ایک حصہ کٹوا دیا ہے۔
ٹوکیو گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے 30 سالہ کھلاڑی کی حال ہی میں دائیں ہاتھ کی انگوٹھی والی انگلی ٹوٹ جانے کے بعد پیرس اولمپکس میں شرکت مشکوک ہو گئی تھی۔
ڈاکٹروں نے انہیں یہ انتخاب کرنے کا موقع دیا کہ وہ اپنی انگلی کا کچھ حصہ کٹوا دیں یا اس کے ٹھیک ہونے دیں۔ صرف ایک طریقہ ان کے پیرس جانے کو یقینی بنا سکتا تھا۔
"میرے پاس فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا،" انہوں نے آسٹریلوی براڈکاسٹر سیون نیٹ ورک کو بتایا۔
"میں نے فیصلہ کیا، پھر اپنی اہلیہ کو فون کر دیا اور انہوں نے کہا، 'میں نہیں چاہتی کہ آپ جلدی میں فیصلہ کریں۔'
"لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس وہ تمام معلومات موجود تھیں جو نہ صرف پیرس میں کھیلنے بلکہ اس کے بعد کی زندگی اور خود کو بہترین صحت دینے کا فیصلہ کرنے کے لیے مجھے درکار تھیں۔"
سیون نیٹ ورک نے ڈاسن کو انگلی کے اوپر سیاہ حفاظتی گارڈ پہنے ہوئے دکھایا۔
آسٹریلوی مردوں کے کوچ نے ڈاسن کی ہمت اور عزم کی تعریف کی جبکہ اعتراف کیا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔
کوچ کولن بیچ نے کہا، "اس سے صحت یاب ہونے کا بہترین طریقہ انگلی کے سرے کو کاٹ دینا تھا۔ تو انہوں نے یہی کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کا کوچ کسی کھلاڑی کے لیے فیصلہ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا، "میٹ کے لیے پورے نمبر۔ ظاہر ہے کہ وہ واقعی پیرس میں کھیلنے کے لیے پرعزم ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ میں ایسا کر سکتا تھا لیکن انہوں نے یہ کیا ہے جو بہت بڑی بات ہے۔"
ٹوکیو اولمپکس میں بیلجیئم کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے آسٹریلیا کو امید ہے کہ وہ پیرس اولمپکس میں زیادہ بہتر مقام حاصل کرے گا۔