سپین کے شہریوں نے ملک میں بڑھی ہوئی سیاحت کے خلاف سڑکوں پر نکلنا شروع کر دیا۔ 80 کے قریب مقامی تنظیموں نے شہریوں کو اہنے حقوق کے تحفظ کے لیے اپیل کی تھی کہ سیاحت مخالف جلوس کا حصہ بنیں۔
اس سلسلے میں مالورکا میں اتوار کے روزبہت بڑی تعداد میں شہری پلے کارڈز اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ منتظمین کے مطابق مظاہرین کی تعداد 50 ہزار تھی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین 20 ہزار تھے۔
بہر حال یہ ایک بڑا جلوس تھا۔ جس کا مقصد ملک میں سیاحت کے لیے کچھ حدود وقیود طے کرنا اور اس کے لیے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ایسے قواعد کا پابند کرنا ہے جس سے مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن نہ ہو جائے۔
پلے کارڈز پر مظاہرین نے اس طرح کی عبارتیں لکھی ہوئی تھیِ ، آپ کے لیے 'تعیش کی جگہ ہمارے لیے مصیبت کا مقام بن گیا ۔ ' ایک اور پلے کارڈ پر تحریر تھا کل مقامی 1232014 اورغیر ملکی سیاح 18 ملین یعنی ایک کروڑ اسی لاکھ !
ملک میں سیاحت کو روکنے کے لیے مقامی ہسپانوی شہری سیاحت کے مروجہ ماڈل کو تبدیل کرنے کا مطالبہ رکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ سیاحوں کے اس جاری طوفان سے بحرمتوسط کے اس جزیرے کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ سیاحت کی مخالفت پر اتر آئے ہسپانوی شہریوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بیلا ریک جزائر میں بطور خاص پابندی لگائی جائیں تاکہ سیاحتی طوفان سے مقامی آبادی متاثر نہ ہو ۔ ان جزائر میں مالورکا ، مینورکا اور ابیزا شامل ہیں۔
مظاہرین نے پلے کارڈز میں لکھا تھا یہ 'ٹورزم فوبیا' یا سیاحت دشمنی نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاحتی حدود اور قواعد بدلے جائیں۔ یہ لوگ ان گلیوں میں پھیلے ہوئے تھے جو عام طور پر سیاحوں سے بھری رہتی ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے ہمارے جزیرے فروخت کے لیے نہیں ہیں ۔
سیاحت سے تنگ آئے مظاہرین کہہ رہے تھے ' سیاحت کے موجودہ ماڈل نے عوامی خدمات ہسپانوی عوام کے لیے تباہی کو چھو گئی ہے، قدرتی وسائل کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور مکانات تک مقامی لوگوں کی رسائی مشکل ہو چکی ہے۔
مطاہرین کے یہ مسائل عام طور پر سیاحوں کی توجہ زیادہ مرکز رہنے والے شہروں اور مختلف ملکوں کے وفاقی دارالحکومتوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں کرائے پر ملنے والے رہائش گاہیں مقامی لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔
مقامی حکومتوں اور انتطامیہ کی بد انتظامی ، عوامی مسائل سے بے تعلق اور نا اہلی کی وجہ سے روز مرہ کی اشیا سے لے کر جائیدادوں کی قیمت کا تعین بالواسطہ طور پرغیر ملکیوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اپنے ملک میں ہوتے ہوئے بھی دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جاتے ہیں ، اس مسئلے سے سپین کے شہری بھی دوچار ہیں۔
ایسا ہی ایک احتجاج ماہ مئی کے آخری دنوں میں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ ان مطاہرین کا بھی مطالبہ یہی تھا کہ سیاحوں اور سیاحت کے لیے کچھ طریقہ بدلیں۔ ہماری زمین اور سڑکیوں اور برائے فروخت نہیں ہیں۔
جوز ماریہ ایزکوائیگا شہروں کی پلاننگ کی ماہر ہیں ، ان کا کہنا ' سیاحت ایک جائز معاشی سرگرمی ہے۔ مگر اسے قاعدے اور ڈھنگ کے اندر تو ہونا چاہیے۔ جس طرح کہ ہوٹل انڈسٹری کے لیے قواعد موجود ہیں۔ اسی طرح غیر ملکیوں کو رہائش کے لیے دیے جانے والے فلیٹس کے لیے مقامی لوگوں کے نمائندوں کی منظوری کو شامل کیا جانا چاہیے۔'