21 جولائی: درجۂ حرارت کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے دنیا کا گرم ترین دن
مملکت گرمی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے: سعودی ماہرین
موسمیاتی سائنسدانوں نے منگل کو کہا کہ 1940 میں درجۂ حرارت کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے گذشتہ اتوار عالمی سطح پر گرم ترین دن تھا۔
21 جولائی کو زمین کی سطح کے قریب ہوا کا عالمی اوسط درجۂ حرارت 17.09 سینٹی گریڈ تھا جو چھے جولائی 2023 کو درج کردہ 17.08 سینٹی گریڈ کے سابقہ ریکارڈ سے ذرا زیادہ تھا۔
یورپی یونین کے موسمیاتی نگران کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے کہا، "زمین کو ابھی اپنے گرم ترین دن کا تجربہ ہوا ہے۔"
سروس ڈائریکٹر کارلو بوونٹیمپو نے کہا: "اب ہم واقعی نامعلوم علاقے میں ہیں اور جیسے جیسے آب و ہوا گرم ہوتی جا رہی ہے تو ہم آئندہ ماہ و سال میں نئے ریکارڈ ٹوٹتے ہوئے دیکھیں گے۔"
عالمی سطح پر گرمی بڑھنے کے باوجود ماہرِ موسمیات عبدالعزیز الحسینی نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب میں درجۂ حرارت ان کی عام سالانہ حد کے اندر تھا۔ انہوں نے کہا، "سعودی موسمی نمونوں کے مبصرین کو کچھ بھی غیر معمولی نظر نہیں آ رہا حالانکہ جاپان جیسے ممالک ریکارڈ توڑ درجۂ حرارت کی اطلاع دیتے ہیں۔ جون درحقیقت اس سے زیادہ گرم تھا جو ہم نے اب تک جولائی میں محسوس کیا ہے۔"
ایک اور ماہرِ موسمیات ولید الحقیل نے کہا کہ جون اور جولائی دونوں میں دنیا بھر میں درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا اور جولائی میں بالخصوص زیادہ گرم دن تھے۔
گذشتہ سالوں کے مقابلے میں انہوں نے کہا، "2022 اور 2023 میں گرمی کے پیٹرن ایک جیسے تھے لیکن اس سال زیادہ گرم دن تھے بالخصوص جنوبی یورپ، امریکہ کے کچھ حصوں، شرقِ اوسط، ترکی، بوسنیا اور آذربائیجان میں۔"