امریکہ: افریقی نژاد خاتون کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، وڈیو نے غصے کی لہر دوڑا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی ریاست الینوائے میں پولیس اہل کار کے ہاتھوں اپنے گھر میں قتل ہونے والی خاتون شہری کی زندگی کے آخری لمحات کی وڈیو سامنے آئی ہے۔ اس واقعے نے امریکہ میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

یہ واقعہ چھ جولائی کو نصف شب کے بعد اُس وقت پیش آیا جب ایک پولیس اہل کار شون گرائسن نے اسپرنگ فیلڈ شہر میں 36 سالہ سونیا میسی کے گھر کا رخ کیا۔

مقامی پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق افریقی نژاد میسی نے ہنگامی خدمت کو اطلاع دی تھی کہ اس کے گھر میں ممکنہ طور پر چور موجود ہے۔

واقعے سے متعلق وڈیو میں گرائسن اور اس کے ساتھی کو کئی بار میسی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دونوں پولیس اہل کاروں نے میسی کو آگاہ کیا کہ انھوں نے گھر کے اطراف کے علاقے کا معائنہ کر لیا ہے اور وہاں کوئی شخص نہیں ملا۔ وڈیو میں میسی کو گھر کے اندر آتے دیکھا گیا جہاں اس نے کھولتے ہوئے پانی کی آنچ بند کر دی اور برتن کو اٹھا لیا۔ اس پر ایک پولیس اہل کار پیچھے ہٹ گیا تو میسی نے اس سے پوچھا ایسا کیوں کیا جس پر پولیس اہل کار نے ہنستے ہوئے کہا کہ "تمہارے کھولتے ہوئے پانی سے دور ہوا"۔

بات آگے بڑھی تو میسی نے کئی بار یہ جملہ دہرایا "میں یسوع مسیح ے نام پر تمہاری سرزنش کرتی ہوں"۔ اس پر پولیس اہل کار گرائسن حیران ہو گیا اور اس نے کہا "بہتر ہے کہ تم ایسا نہ کرو ورنہ میں قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے چہرے پر گولی مار دوں گا"۔

گرائسن نے اپنا اسلحہ نکال کر میسی پر تان لیا۔ اس پر وہ دھیمی پڑ کر کہتی ہے "میں معافی چاہتی ہوں"۔ اس دوران میں میسی کے ہاتھ میں برتن بلند رہتا ہے تو گرائسن دو بار اس سے کہتا ہے کہ "برتن رکھ دو" اور پھر میسی پر گولی چلا دیتا ہے۔ میسی اسی وقت زمین پر گر جاتی ہے۔

اس کے بعد دونوں پولیس اہل کاروں میں سے ایک کہتا ہے کہ وہ اس بات سے خوف زدہ ہو گئے تھے کہ وہ کھولتا ہوا پانی چہرے پر نہ ڈال دے۔

سینگمون کاؤنٹی کے پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس اہل کار گرائسن پر دانستہ طور میسی کے چہرے پر فائرنگ ، آتشی اسلحے سے حملے اور برے سلوک کے الزامات عائد کیے۔

عدالت نے ضمانت پر گرائسن کی رہائی کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

سفید فام شون گرائسن کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "پولیس اہل کار کے ہاتھوں سونیا کی موت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بسا اوقات سیاہ فام امریکیوں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے ایسے اندیشوں کا سامنا ہوتا ہے جن کا ہم میں سے بہت سے لوگوں کو سامنا نہیں ہوتا"۔

امریکا میں وقتا فوقتا افریقی نژاد شہریوں کے خلاف پولیس کے تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور واقعہ غالبا مئی 2020 میں جورج فلوئڈ کی ہلاکت کا تھا۔ اس کے نتیجے میں Black Lives Matter تنظیم کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو اس وقت کئی مغربی ممالک تک پھیل گئے۔ یہ مظاہرے نسل پرستی اور پولیس کے تشدد کے خلاف تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں