امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کے روز ٹک ٹاک کی جبری فروخت کے لیے بنائے گئے قانون کا دفاع کیا ہے۔
یہ امریکی دفاع اس مقدمے میں کیا گیا جس میں ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ امریکہ کا 'ٹک ٹاک' کو فروخت کرنے کے لیے بنایا گیا نیا قانون امریکی آئین میں آزادی اظہار کے لیے کی گئی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
امریکہ کی طرف سے اس معاملے میں یہ دفاع اختیار کیا گیا ہے کہ' ٹک ٹاک' کی جبری فروخت کا قانون قومی سلامتی کے پیش نظر بنایا گیا ہے۔ نیز یہ کہ 'بائیٹ ڈانس' کی 'پیرنٹ کمپنی' آزادی اظہار کا یہ دعویٰ نہیں کر سکتی ہے۔
محکمہ انصاف کے سینئیر حکام کی طرف سے بریفنگ میں بتایا گیا ' خدشہ یہ ہے کہ چینی کمپنی امریکی صارفین کا ڈیٹا چیئنی حکومت کے حوالے کر سکتی ہے۔ نیز صارفین کے مواد کو سنسر کرنے کے لیے چین اس کمپنی کو دباؤ میں لا سکتی ہے۔
محکمہ انصاف کے سینئیرحکام کا اس سلسلے میں موقف تھا 'اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ نوجوان سے بوڑھوں اور ان کے علاوہ درمیانی عمر کے لوگ اس پلیٹ فارم کو مکمل ذاتی تحفظ کے احساس کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ انہیں یہ اعتماد ہو کہ ان سے متعلق معلومات چینی حکومت کو نہیں ملیں گی۔'
امریکی محکمہ انصاف نے یہ بھی موقف اختیار کیا ' امریکی صارفین کے لیے یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انہیں جو چیزیں 'ٹک ٹاک 'پر ملیں وہ ' سنسرڈ 'نہ ہوں۔ امریکی محکمہ انصاف نے یہ موقف بھی اپنایا ہے کہ غیر ملکی قانون کے تابع کمپنی پہلی ترمیم کے دائرے سے باہر ہو جاتا ہے۔'
اس سلسلے میں امریکی حساس اداروں کے اس خدشے کو بھی موقف کا حصہ بنایا گیا ہے کہ چین 'موبائل ایپس' کو امریکیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے۔
واضح رہے صدر جو بائیڈن نے اسی سال کے شروع میں ایک بل پر دستخط کیے تھے کہ 'ٹک ٹاک' کے لیے جنوری کے وسط تک کوئی غیر چینی خریدار تلاش کیا جائے ورنہ ' ٹک ٹاک ' کو پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بل میں کہا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں 90 دن کی توسیع کر سکتا ہے۔