استنبول میں حماس کے رہنما کے قتل کے خلاف ہزاروں افراد کی ریلی
اس سے فلسطینیوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہو گی: ایردوآن
ہزاروں فلسطینی حامی مظاہرین نے بدھ کو وسطی استنبول کی سڑکوں پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے ہنیہ کی تصاویر والے پوسٹرز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "شہید ہنیہ، یروشلم ہمارا مسئلہ ہے اور آپ کا راستہ ہمارا راستہ ہے"۔
استنبول کے ضلع فاتح میں مارچ کے دوران مظاہرین نے نعرے لگائے، "قاتل اسرائیل، فلسطین سے نکل جاؤ" اور "غزہ میں مزاحمت کو استنبول سے ہزاروں سلام" اور وہ ترک اور فلسطینی پرچم لہرا رہے تھے۔
اگرچہ ہنیہ پر قاتلانہ حملہ وسیع پیمانے پر اسرائیل سے منسوب کیا گیا ہے لیکن وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور کہا کہ وہ اس قتل پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔
عموماً قطر میں قیام پذیر ہنیہ حماس کی بین الاقوای سفارت کاری کا چہرہ رہے۔ وہ فلسطینی انکلیو میں جنگ بندی معاہدہ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں حصہ لے رہے تھے۔
اس سے قبل بدھ کو ترک صدر طیب ایردوآن نے تہران میں ہونے والے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا، اس سے فلسطینیوں کی قوت اور حوصلہ نہیں ٹوٹے گا۔