تونس کے دار الحکومت میں عدالت نے 'فری دستورین پارٹی' کی سربراہ اور صدارتی انتخابات کی ممکنہ امیدوار عبیر موسی کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر خود مختار اعلیٰ انتخابی اتھارٹی کی توہین کا الزام ہے۔ یہ فیصلہ تونس میں چھ اکتوبر کو مقررہ صدارتی انتخابات کے انعقاد سے دو ماہ قبل سامنے آیا ہے۔
انتخابی اتھارٹی کی جانب سے رواں سال کی ابتدا میں عبیر کے خلاف شکایت پیش کی گئی تھی کہ انھوں نے اتھارٹی کی توہین کی اور لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا۔ اس پر کل پیر کے روز عدالت نے فیصلہ جاری کر دیا۔
یاد رہے کہ صدر قیس سعید کی پالیسیوں کی مخالف عبیر گذشتہ برس اکتوبر سے زیر حراست ہیں۔ ان پر ذاتی معلومات کے حوالے سے غیر قانونی عمل اختیار کرنے، کام کے حق میں رکاوٹ ڈالنے اور بد امنی پیدا کرنے کے ارادے سے حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ البتہ عبیر کی پارٹی کے خیال میں ان کی گرفتاری صدارتی انتخابات میں خاتون سیاست دان کی شرکت روکنے کے لیے حکام کی جانب سے قانونی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
جیل میں ہونے کے باوجود عبیر موسی نے گذشتہ ہفتے کے روز اپنی دفاعی کمیٹی کے ذریعے چھ اکتوبر کو مقررہ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، حالاں کہ ان کے پاس بعض بنیادی دستاویزات نہیں تھیں جن میں عدالتی ریکارڈ کا کارڈ اور ووٹروں کی تصدیق کرنے والا نمونہ فارم شامل ہے۔
تونس میں حزب اختلاف کی جماعتیں صدر قیس سعید پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ اپنے حریفوں کو صدارتی انتخابات سے دور رکھنے کے لیے عدلیہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم صدر نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس پروپیگنڈے کا مقصد ملک میں افواہیں اور بد امنی پھیلانا ہے"۔
-
قیس سعید کی حکومت کے دوران تونس میں مخالفین پر نفسیاتی تشدد بڑھ گیا
دو ہزار اکیس میں برسر اقتدار آنے والی قیس سعید کی حکومت کی وجہ سے سیاسی مخالفین کے ...
بين الاقوامى -
تُونس کی حزبِ اختلاف کا صدرقیس سعیّد کے خلاف نئے اتحاد کی تشکیل کا اعلان
تُونس کی حزب اختلاف کی ایک تجربہ کار شخصیت نے صدر قیس سعیّد کے گذشتہ سال اقتدار پر ...
بين الاقوامى -
تُونس:صدرقیس سعید کا سپریم عدالتی کونسل کو تحلیل کرنے کا فیصلہ
تُونس کے صدرقیس سعید نے اتوارکے روزعدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے ذمے دارآئینی ...
بين الاقوامى