"طالبان نے پابندیاں لگا کر 1.4 ملین افغان لڑکیوں کودانستہ سکول کی تعلیم سے محروم کیا"

اپنے تین سالہ دورِ اقتدار میں طالبان نے خواتین اور بچیوں پر بے جا پابندیاں عائد کی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کی ایک ایجنسی نے جمعرات کو کہا کہ طالبان نے پابندیاں لگا کر 1.4 ملین افغان لڑکیوں کو دانستہ سکول جانے سے محروم کر رکھا ہے۔

افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے۔

اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے چھٹی جماعت سے اوپر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا دی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ان کی شریعت کی تعبیر کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے لڑکوں کو تعلیم سے نہیں روکا اور لڑکیوں اور خواتین کے لیے جماعتیں اور کیمپس دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کرنے کا کوئی نام و نشان نہیں۔

یونیسکو نے کہا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کم از کم 1.4 ملین لڑکیوں کو دانستہ ثانوی تعلیم تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے جس میں اپریل 2023 میں اس کے سابقہ اعداد و شمار کے بعد سے 300,000 کا اضافہ ہوا ہے جبکہ ہر سال مزید بچیاں 12 سال کی عمر کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔

یونیسکو نے کہا، "اگر ہم ان لڑکیوں کو شامل کریں جو پابندیوں کے نفاذ سے پہلے ہی سکول سے باہر تھیں تو اب ملک میں تقریباً 2.5 ملین لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں جو سکول جانے کی عمر کی 80 فیصد افغان لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔"

تبصرہ کے لیے طالبان سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پرائمری تعلیم تک رسائی میں بھی کمی آئی ہے اور اب 1.1 ملین کم لڑکیاں اور لڑکے سکول جاتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے خبردار کیا کہ حکام کے ان اقدامات سے افغانستان میں تعلیم کے لیے دو عشروں کی مسلسل پیش رفت "تقریباً ختم" ہو گئی ہے۔ ایجنسی نے مزید کہا، "ایک پوری نسل کا مستقبل اب خطرے میں ہے۔"

یونیسکو نے کہا کہ افغانستان میں 2022 میں پرائمری سکول میں 5.7 ملین لڑکیاں اور لڑکے تھے جبکہ 2019 میں یہ تعداد 6.8 ملین تھی۔

یونیسکو نے کہا کہ اندراج میں کمی طالبان کے اس فیصلے کا نتیجہ تھی جس کے تحت خواتین اساتذہ کو لڑکوں کو پڑھانے سے روک دیا گیا لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سخت معاشی حالات میں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے لیے والدین کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

یونیسکو نے کہا، "یونیسکو اس بڑھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تعلیم سے محرومی کی شرح کے نقصان دہ نتائج سے پریشان ہے جو بچہ مزدوری اور کم عمری کی شادیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔"

طالبان نے بدھ کو بگرام ایئر بیس پر حکومت کے تین سال کا جشن منایا لیکن ملک کی مشکلات کا یا جدوجہد کرنے والی آبادی کی مدد کے وعدوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

کئی عشروں کے تنازعات اور عدم استحکام نے لاکھوں افغانوں کو بھوک اور افلاس کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں