لندن کی ایم ای ٹی پولیس پر جنسی مجرمان کی نگرانی پر تنقید

فورس میں شامل کئی افسران خود بھی گھریلو تشدد جیسے مقدمات میں زیرِ تفتیش ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جمعرات کو ایک معائنہ رپورٹ سے پتا چلا کہ لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس فورس سزا یافتہ جنسی مجرموں اور بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کرنے والوں سے لاحق خطرات کا اندازہ لگانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

پولیس انسپکٹوریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی جرائم کے مرتکب اور مشتبہ افراد کو پولیس کے غیر اعلانیہ دورے بھگتنا پڑتے ہیں لیکن 2017 کے بعد سے ایک انتہائی خطرناک مجرم سے کامیابی کے ساتھ ملاقات نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا، "اس طرح اس فرد اور کمیونٹی کو اس سے لاحق خطرات سے مناسب طور پر نہیں نمٹا جا رہا تھا۔"

اس کے باوجود فرد کو گرفتار کرنے یا وارنٹ جاری کرنے کے بارے میں "پیش اقدامی طور پر غور نہیں کیا گیا"۔ انسپکٹوریٹ نے بہت زیادہ دوروں کا پہلے سے اعلان کرنے پر بھی فورس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس نے کہا، اس سے ممکنہ طور پر مجرم کو مواد اور آلات کو چھپانے اور کم خطرناک ظاہر ہونے کا موقع ملا۔ انسپکٹوریٹ نے ایم ای ٹی پر جرم کی تفتیش کے معاملے میں بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ افسران کے پاس "بہتر معیار کی تحقیقات کرنے کے لیے مہارت اور تجربہ ناکافی ہے۔"

رپورٹ میں کہا گیا کہ "ہمیں پیچیدہ جرائم ایسے افسران کو تفویض کرنے کی مثالیں ملی ہیں جو صرف بنیادی تفتیش کے لیے تربیت یافتہ تھے۔"

اس نے مزید کہا، "ہم نے یہ بھی دیکھا کہ واضح خطرے کے حامل مثلاً بچوں کی نازیبا تصاویر، خاندان سے باہر کے بچوں سے بدسلوکی اور جنسی جرائم کی تفتیش نئے بھرتی کرنے والے کر رہے تھے۔"

اس سال کے شروع میں اسی نگران ادارے نے کہا تھا کہ بچوں کے مجرمانہ اور جنسی استحصال پر میٹ کا ردِ عمل "فی الحال مؤثر نہیں" تھا۔

بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر فورس کے ناقص ردِ عمل سے ادارے کو بالخصوص پریشانی ہوئی۔ اس نے مزید کہا کہ کئی افسران "بچوں کی گمشدگی اور استحصال کے درمیان تعلق" کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

ایک حاضر سروس افسر کے ہاتھوں مارکیٹنگ ایگزیکیٹو سارہ ایورارڈ کے اغوا، عصمت دری اور قتل سمیت متعدد سکینڈلز کے ایک سلسلے کی وجہ سے حالیہ برسوں میں میٹ کی شہرت کو شدید نقصان پہنچا۔ بعد میں اس افسر کو تاحیات قید کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

عوام کو چونکا دینے والے ایک اور مقدمے میں گذشتہ سال ایک سابق افسر کو 71 "خوفناک"جنسی جرائم کے لیے 36 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی جن میں 12 خواتین کی عصمت دری بھی شامل تھی۔

جنوری 2023 میں میٹ نے انکشاف کیا کہ 34,000 کی نفری کی حامل مضبوط فورس میں 1,071 افسران گھریلو بدسلوکی اور خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات میں زیرِ تفتیش تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں