مصری فٹ بالر کی طواف کے دوران بنائی گئی تصویر پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری کھلاڑی احمد حسام میدو جو کہ زمالک کلب کے سابق سٹار اور مصری قومی ٹیم کے رکن ہیں نے گذشتہ دنوں ایک تصویر کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اپنے فالوورز میں تنازع کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔

میدو نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے ذریعے عمرہ کے مناسک ادا کرتے ہوئے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی۔ تصویر میں ان کے جسم پر کچھ ٹیٹو دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ ان کے کان میں ائرفون بھی موجود ہے۔ ٹیٹو دکھانے اور ایئرفون کے ساتھ طواف کعبہ کی تصویر پوسٹ کرنے پر فٹ بالر و عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

بعض مصری صارفین نے عمرہ کرتے ہوئے اپنے جسم پر بنے ’ٹیٹو‘ دکھانے پرحیرت کا اظہار کیا۔

میدو نے اس پر رد عمل میں کہا کہ کہ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو اس سے منع کرتی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میرا پہلا اور آخری حوالہ قرآن میں سے کسی چیز کی ممانعت کی طرف ہے۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے اللہ نے اپنی مقدس کتاب میں منع کیا ہو اور نہ ہی منع کیا ہو"۔

جہاں تک ہیڈ فون کا تعلق ہے تو انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے اسے سعی اور طواف کے دوران دعاؤں کو سننے اور دہرانے کے لیے لگایا ہے۔

ابراہیم سعید کی مداخلت کی

دوسری طرف الاھلی اور زمالک فٹ بال کلبوں سابق کھلاڑی ابراہیم سعید نے اپنے ساتھی کھلاڑی کا دفاع کیا۔ انہوں نے النہار چینل پر ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ "میں میدو پر تنقید سے حیران ہوں کہ ہم ایک دوسرے کو جوابدہ کیوں ٹھہرا رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ تمام تبصرے مضحکہ خیزہیں۔ ہر نقاد سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں کے معاملات کی پرواہ کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں جوابدہی صرف اللہ کے سامنے ہے۔

انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جرمن سٹار مسعود اوزیل جب عمرے اور حج کے لیے گئے تو مداح ان سے اتنے خوش کیوں تھے، حالانکہ ان کے جسم پر ٹیٹو بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ "کیا اس کا مطلب یہ ہے، میرے جسم پرٹیٹو ہےتو میں نماز نہیں پڑھ سکتا اور میں عمرہ یا حج نہیں کرسکتا؟۔ مجھے اپنے رب کو جواب دینا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں