مصنوعی ذہانت ہمیں "صبر کی فضیلت" سے محروم کر رہی ہے:ماہرین
ایک ایسے وقت میں جب فوری جوابات حاصل کرنے اور بے مثال رفتار سے کاموں کو نمٹانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے ٹولز پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، ایک امریکی ماہرِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز اپنے پیچھے ایک ایسا منفی اثر چھوڑ رہی ہیں جو بہ ظاہر کم نظر آتا ہے اور وہ ہے "صبر کی فضیلت" کا بتدریج خاتمہ، جو کہ ہمیشہ سے سیکھنے کے عمل اور گہری سوچ و فکر سے جڑی رہی ہے۔
امریکی ویک فورسٹ یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر کرسٹین بی میلر نے "دی کنورسیشن" پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس صرف تحقیق اور لکھنے کا طریقہ ہی تبدیل نہیں کر رہی، بلکہ یہ علم تک پہنچنے کے لیے درکار وقت اور محنت کے حوالے سے لوگوں کی توقعات کو بھی نئے سرے سے ڈھال رہی ہے۔
پروفیسر میلر نے وضاحت کی کہ گذشتہ دور میں طلبہ لائبریریوں میں طویل گھنٹے گزارتے تھے یا اپنے تحقیقی مقالے تیار کرنے کے لیے متعدد ذرائع کا کھوج لگاتے تھے۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جس کے لیے صبر، تجزیہ اور تنقیدی سوچ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی تھی۔ اس کے برعکس آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ٹولز محض چند سیکنڈز میں مکمل جوابات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رفتار کی ثقافت
ان کا ماننا ہے کہ انٹرنیٹ نے اس تبدیلی کا آغاز تو برسوں پہلے کر دیا تھا، لیکن آرٹیفیشل انٹیلی جنس اسے ایک نئی سطح پر لے گئی ہے، جہاں اب صارف کو مختلف ذرائع کے درمیان تلاش یا موازنہ کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی، بلکہ وہ بنے بنائے اور فوری جوابات حاصل کر لیتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ انداز تدریجی طور پر کسی بھی تاخیر کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے یا ان کاموں سے نمٹنے کی ہمت سلب کر سکتا ہے جو وقت اور ذہنی مشقت مانگتے ہیں، جس کا براہِ راست منفی اثر تحقیق، تحریر اور تنقیدی سوچ کی مہارتوں پر پڑتا ہے۔
مصنف نے نفسیات کے شعبے میں ہونے والی ابحاث کا حوالہ دیا جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انسانی توقعات بار بار کے تجربات کے ساتھ خود کو ڈھال لیتی ہیں۔ جس طرح انسان اپنے نئے ڈیجیٹل ڈیوائس کی تیز رفتار کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر کسی بھی معمولی تاخیر کو برداشت نہیں کر پاتا، اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مستقل انحصار فوری جوابات کے حصول کو ایک معمول کی بات اور طے شدہ توقع بنا دیتا ہے۔
تعلیمی نظام پر اثرات
مضمون میں تعلیمی اداروں کی ایک مثال پیش کی گئی ہے، جہاں کچھ طلبہ عبارتوں کی تشریح کرنے یا تجزیے اور تنقیدی آراء خود تیار کرنے کے بجائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ٹولز کا سہارا لینے لگے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کا اثر دیگر شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے، جیسے مذہبی خطبات کی تیاری، پیشہ ورانہ خط و کتابت اور کاروباری منصوبہ بندی، یہ وہ کام ہیں جن کے لیے گذشتہ وقتوں میں کئی گھنٹوں کی تیاری اور گہری تحقیق درکار ہوتی تھی۔
صبر کے فوائد
محقق نے اس بات پر زور دیا کہ صبر صرف ایک مثبت سماجی رویہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو انتہائی مفید نتائج کے ایک پورے مجموعے سے جڑی ہوئی ہے۔ گذشتہ مطالعہ جات نے صبر کو ذہنی صحت کی بہتری، جذبات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کو فروغ دینے اور زندگی سے اطمینان میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی تعلقات کی بہتری اور دوسروں کے ساتھ تعاون بڑھانے سے جوڑا ہے۔
میلر نے اس ممکنہ منفی اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں کچھ کاموں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے فراہم کردہ آسان راستوں (شارٹ کٹس) پر انحصار کرنے کے بجائے جان بوجھ کر زیادہ مشقت والے راستے کا انتخاب کرنا ، ڈیجیٹل خلفشار سے دور رہ کر پڑھنے اور لکھنے کے لیے خاص وقت مختص کرنا شامل ہے۔
انہوں نے تعلیمی اور ثقافتی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ براہِ راست فکری روابط اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کریں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو کام اور سیکھنے کے ہر پہلو میں ضم نہ کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ صبر کی نشوونما صرف تحقیق یا مطالعے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اسے روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے کہ ورزش، دستکاری کے کام، باغبانی اور دیگر ایسے کاموں کے ذریعے بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے جو وقت اور مستقل مزاجی مانگتے ہیں۔
مضمون کے آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس معلومات تک رسائی کو تیز کرنے میں بے پناہ فوائد تو فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے برعکس یہ ان ذہنی اور سلوکی مہارات کو کھو دینے کا باعث بن سکتی ہے جو عام طور پر انتظار، تجربے اور تدریجی سیکھنے کے عمل سے پروان چڑھتی ہیں، اور ان سب میں سرِفہرست صبر ہے۔
-
لکھنے کی عادت ذہن کو سنوارنے اور جذباتی استحکام بڑھانے کا سبب
لکھنا محض خیالات اور جذبات کے اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ذہنی عمل ہے، جو ...
ایڈیٹر کی پسند -
عجیب منظر... بوئنگ طیارے کے پہیے بیٹھنے کے سبب اگلا حصہ گر گیا
جرمنی میں فرینکفرٹ ہوائی اڈے پر گذشتہ روز جمعرات کو ایک عجیب و غریب منظر نے سوشل ...
بين الاقوامى -
شہد کی مکھیوں نے غیر متوقع ذہنی صلاحیتوں سے سائنس دانوں کو حیران کر دیا!
ایک نئی سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ شہد کی مکھیوں (Bumblebees) نسبتاً پیچیدہ ...
ایڈیٹر کی پسند