بائیڈن کے کہنے پر نیتن یاہو نے فلاڈیلفیا سے جزوی انخلا پر اتفاق کیا ہے

فلاڈیلفیا کوریڈور خار دار تاروں سے محفوظ کیا گیا زمینی ٹکڑا 14 کلومیٹر (8.5 میل) لمبا ہے۔ اس کا تنگ ترین مقام تقریباً 100 میٹر (330 فٹ) چوڑا ہے۔ اس کے نیچے کھودی گئی سرنگیں مبینہ طور پر اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے مصر اور غزہ کی سرحد کے ایک حصے سے اسرائیلی افواج کو ہٹانے کو کہا اور نیتن یاہو نے فلاڈیلفیا کے محور سے ایسے جزوی انخلا پر اتفاق کیا جس سے اس کے آپریشنل کنٹرول کو نقصان نہ پہنچے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں قاہرہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ پیش رفت ہو گئی ہے، اب ہم دونوں فریقوں کو اس پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ موساد اور شن بیٹ کے سربراہ ایک امریکی وفد کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ترجمان اومیر دوستری نے کہا ہے کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا اور شن بیٹ کے سربراہ رونن بار اس وقت قاہرہ میں ہیں جہاں وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر فلاڈیلفیا کے محور پر بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کے خیال کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

فلاڈیلفیا کا نقشہ

اسرائیلی حکام نے ’’ ایکسیوس‘‘ کو بتایا کہ ان کے پاس فلاڈیلفیا محور میں اسرائیلی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے ایک سب سے قریبی نقشہ موجود ہے۔ قاہرہ مذاکرات کا مقصد کسی معاہدے تک پہنچنے میں حائل آخری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ اس سے قبل العربیہ یا الحدث ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ مصر میں مذاکرات دو دن تک جاری رہیں گے اور اختلافات دور ہونے کے بعد مذاکراتی سیشن کو بڑھا دیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید کہا کہ امریکہ نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے گا ۔ مصر اور قطر حماس پر دباؤ ڈالیں گے۔ قاہرہ نے فلاڈیلفیا محور سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے شرط قرار دیا ہے۔ تل ابیب چاہتا ہے کہ اصولی طور پر اس کی افواج سال کے آخر تک اسی محور پر رہیں۔

غزہ معاہدے کی بات چیت سے واقف ایک ذریعے نے اسرائیلی نشریاتی ادارے کے بیانات میں کہا ہے کہ مصر اور قطر کا خیال ہے کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنے کچھ عہدوں کو تبدیل کر کے اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کو وسیع اختیارات دیں۔

فلاڈیلفیا کوریڈور کیا ہے؟

غزہ پٹی میں مصر کی سرحد کے ساتھ زمین کا ایک تنگ سا ٹکڑا اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ ان کا ملک فلاڈیلفیا یا صلاح الدین کوریڈور کہلانے والے زمین کے اس حصے کا کنٹرول مستقل طور پر اپنے پا س رکھے۔

اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ میں زمین کے اس ٹکڑے پر قبضہ کر لیا تھا۔

خار دار تاروں سے محفوظ کیا گیا یہ زمینی ٹکڑا 14 کلومیٹر (8.5 میل) لمبا ہے۔ اس کا تنگ ترین مقام تقریباً 100 میٹر (330 فٹ) چوڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے نیچے سرنگیں کھودی گئی ہیں اور یہ اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ زمینی راہداری اسرائیلی فوج نے تعمیر اس عرصے میں کی تھی، جب 1967 اور 2005 کے درمیان غزہ پٹی براہ راست اسرائیل کے قبضے میں تھی۔ یہ حماس کے خلاف اسرائیل کی موجودہ کارروائی میں ایک اہم ہدف بھی ہے۔

غزہ میں ممکنہ جنگ بندی اور حماس کے قبضے سے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر قاہرہ میں جاری بات چیت کے دوران فلاڈیلفیا کوریڈور ایک اہم نکتہ ہے۔ جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ ''حماس کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکنے کے لیے‘‘ اس علاقے پر اسرائیلی کنٹرول ضروری ہے۔ حماس، جو مصر میں ہونے والے مذاکرات کے تازہ ترین دور میں شریک نہیں، غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کرتی ہے۔

مصر کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بھی اس ہفتے ''فلاڈیلفیا کوریڈور اور رفح ٹرمینل سے اسرائیلی فوجیوں کے مکمل انخلا‘‘ کا مطالبہ کیا تھا، جو مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اسرائیل اور مصر کے درمیان 2005 میں ہونے والے ایک معاہدے کی وجہ سے اس راہداری کو بفر زون کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ وہ سال تھا، جب غزہ پٹی سے اسرائیل نے یکطرفہ طور پر انخلا کیا تھا۔

اس راہداری کے قیام کا مقصد غزہ کے اندر اور باہر نقل و حرکت پر قابو پانا اور دراندازی اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ راہداری کے قیام کے وقت وہاں قائم کچھ فلسطینیوں کے مکانات کو بھی منہدم کرنا پڑا تھا۔

ستمبر 2005 میں جب اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا ہوا، تو مصر نے سرحد کی حفاظت کے لیے تقریباً 750 اہلکاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔ مصری فورس کا یہاں پر بیان کردہ مقصد علاقے میں ''دہشت گردی‘‘ کے خلاف لڑنا تھا۔

اس وقت غزہ پر فلسطینی صدر محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہوا کرتی تھی، جس نے بھی فلاڈیلفیا کوریڈور کو محفوظ بنانے کے لیے یہاں محافظوں کو تعینات کیا تھا۔

لیکن جون 2007 میں حماس نے محمود عباس کی فتح پارٹی کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ بعد ازاں یہ سرحدی علاقہ اسلحے کی اسمگلنگ کی وجہ سے تشویش کا سبب بن گیا اور یہاں سے مقامی مسلح گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ فلاڈیلفیا کوریڈور کے نیچے سینکڑوں سرنگیں کھودی گئی ہیں، جو ہتھیاروں سے لے کر کاروں، منشیات اور یہاں تک کہ کینٹکی فرائیڈ چکن (کے ایف سی) سمیت ہر چیز کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق مسلح جنگجو ان زیر زمین راستوں کو سرحد کے آر پار آمد و رفت کے لیے گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ اسمگلر مختلف وجوہات کی بنا پر شہریوں کو طبی علاج معالجے سے لے کر شادیوں میں شرکت تک کے لیے سفری سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے یہ سرنگیں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عائد کردہ زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کو نظر انداز کرنے کا ایک طریقہ رہی ہیں۔

مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی جب 2013 میں برسراقتدار آئے، تو قاہرہ حکومت نے ان میں سے بہت سی سرنگوں کو تباہ کر دیا اور فلسطینی حریت پسندوں پر الزام لگایا کہ وہ ان سرنگوں کو ہمسایہ جزیرہ نما سینائی میں جہادی گروپوں کو اسلحہ اور جنگجو اسمگل کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے فلاڈیلفیا کوریڈور کے نیچے لگ بھگ 50 سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے جاری جنگ میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ہمیشہ اس سرحدی علاقے کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ اس نے فلاڈیلفیا کوریڈور کا ''آپریشنل کنٹرول‘‘ سنبھال لیا ہے۔ مصری حکومت کی اسٹیٹ انفارمیشن سروس کی سربراہ دیا رشوان نے جنوری میں پین عرب نیوز چینل الغد کو بتایا تھا کہ اس طرح کا ''قبضہ‘‘دونوں ممالک (مصر اور اسرائیل ) کے مابین ''معاہدے کی وجہ سے ممنوع ہے۔‘‘

رشوان نے کہا کہ یہ ''اسرائیلی مصری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا خطرہ‘‘بھی پیدا کرتا ہے ۔ امریکہ کی ثالثی میں 1979 میں ہونے والا امن معاہدہ اسرائیل اور کسی عرب ملک کے درمیان پہلا امن معاہدہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں