یوکرین کے زیلینسکی نے روس سے منسلک آرتھوڈوکس چرچ پر پابندی کے قانون پر دستخط کر دیئے

سوویت یونین سے کئیف کی آزادی کے دن بل منظور ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ہفتے کے روز یوکرین میں روس سے منسلک آرتھوڈوکس چرچ پر پابندی کے قانون پر دستخط کر دئیے۔ یہ فیصلہ یوکرین کی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا۔

یوکرین 2014 سے روسی چرچ سے خود کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے ان کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

سوویت یونین سے کئیف کی آزادی کے دن اور یوکرین پر روس کے حملے کے ڈھائی سال بعد زیلینسکی نے اس بل کی منظوری دی جسے روس کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یوکرین کے رہنما نے کہا کہ یہ اقدام ان کے ملک کی آزادی کو مضبوط کرے گا اور ہفتے کے روز ایک خطاب میں اعلان کیا: "یوکرائنی آرتھوڈوکس (چرچ) آج ماسکو کے شیطانوں سے آزادی کی طرف ایک قدم اٹھا رہا ہے۔"

یوکرین کے آرتھوڈوکس چرچ نے 2022 میں ماسکو کی سرپرستی سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی لیکن یوکرین کے حکام بار بار اس کے علماء پر روس کے وفادار رہنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

روس کے حملے کو ملک کے آرتھوڈوکس چرچ کے رہنما پیٹریارک کیرل کی حمایت حاصل ہے جو صدر ولادیمیر پوتین کے کٹر اتحادی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں