امریکی بحریہ کے سیکرٹری سیاست میں ملوث ہونے کے پچھتاوے کا شکار

وکیل نے ریمارکس کو قانونی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سیاسی بیان دینے کے بعد امریکی بحریہ کے سیکرٹری کو کافی دیر بعد احساس ہوا کہ فوج سے وابستہ کسی شخص کا ایسا بیان قانون کی خلاف ورزی پرمبنی ہوتا ہے۔ سیکرٹری بحریہ نے اس معاملے میں اپنے وکیل سے رجوع کر کے بتا دیا کہ لگتا ہے حد سے آگے بڑھ گئے۔

کالوس ڈیل ٹورو اعلی ترین فوجی حکام میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے می وائٹ ہاوس کو ' واچ ڈاگ ایجنسی ' نے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدارتی انتخاب اور امیدواروں کے بارے میں جو تبصرہ کیا وہ بی بی سی ایک رپورٹ میں شامل ہے ۔ ان کے یہ ریمارکس برطانیہ میں کچھ ماہ پہلے اس وقت ایک گفتگو کے بعد سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سامنے آئے تھے جب ابھی کملا ہیرس بطور صدارتی امیدوار آگے نہیں لائی گئی تھیں اور
اس بارے میں کوئی امکان بھی نہیں تھا۔ البتہ جوبائیڈن دوسری صدارتی مدت کی اپنی مہم شروع کر چکے تھے۔

ڈیل ٹورو نے لندن میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جوبائیڈن کو ایک تجربہ کار اور بالغ نظر بیان کیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جمہورت سے عاری قرار دیا تھا۔ مگر اب یہ ریمارکس سامنے آئے ہیں جب جوبائیڈن صدارتی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ کملا ہیرس ٹرمپ کے مقابل ہیں۔

ان ریمارکس کے انکشاف پر مبنی رپورٹ کے سامنے لانے کا مقصد امریکی فوج میں قانون کی پابندی کو بحال رکھنا اور ایک اہم ذمہ دار کو قانون کی پابندی سکھانا ہے یا مقصد فوج کے اندر اس ذمہ دار کے ریمارکس کو دوسروں کی رائے پر اثر ڈالنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ بہر ایک بات طے ہے کہ امریکی فوجی حکام میں جہاں ٹرمپ کی مخالفت کا تاثر ابھرا ہے وہیں ان کی حمایت کی بنیادیں بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ لیکن نہیں معلوم کہ فوجیوں کے درمیان اس رائے میں کتنا فرق ہے یا خلیج کتنی گہری ہے۔ تاہم ڈیل ٹورو اب اپنے ریمارکس کی ذمہ داری لیتے ہوئے خود کو کسی قدر مشکل میں محسوس ضرور کرتے ہیں۔

کیونکہ کہا جارہا ہے کہ ٹورو کے یہ ریمارکس ہیچ آیکٹ کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں جو امریکی حکام کو سیاست میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے ہے۔ جب وہ سرکاری ذمہ داری پر ہوں تو ایسی بات نہ کریں اور انتخابی عمل پر اثر نہ ڈالیں۔

یاد رہے ڈیل ٹورو نے لندن کے رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی تقریب میں اپنی گفتگو کے بعد سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا ' دنیا کو جوبائیڈن کی صورت میں بالغ نظر قیادت کی ضرورت ہے۔ ہم کسی ایسے صدر کے متحمل نہیں ہو سکتے جو خود کو آمروں کے ساتھ جوڑتا ہو اور جس کی جمہوری تعبیرات اور تصورات بھی مشکوک ہوں۔'

بعد ازاں بی بی سی نے ٹورو کا انٹرویو کیا تو ان سے ان کے ان ریمارکس کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ ٹرمپ کے جمہوری اصولوں کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں۔ تو انہوں نے دوبارہ کہا ' جب آپ دیکھیں کہ کوئی شخص ایسا ہے کہ وہ ان اصولوں اور اقدار کے ساتھ نہیں ہے جنہیں آپ بہتر سمجھتے ہیں تو آپ کو حیرانی تو ہو گی۔ کیا اپ ایسے فرد کی حمایت کر سکتے ہیں؟ انہوں نے ٹرمپ کی جمہوری سوچ کے بارے مشکوک رویے میں سوال پر اپنے پہلے سے بیان کردہ موقف کا پھر اعادہ کیا۔

واچ ڈاگ ایجنسی کے مطابق کئی دن بعد ڈیل ٹورو کو احساس ہوا کہ ان سے بلنڈر ہو گیا ۔ اس لیے اپنے وکیل سے بات کی اور کہا' میری نیت یہ نہ تھی۔ میں تو مضبوط بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت کے پس منظر میں یہ بات کر رہا تھا۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ میرا فوکس زیادہ وسیع ہونا چاہیے تھا۔ نہ کہ مخصوص صدارتی امیدواروں کی حد تک ہونا چاہیے تھا۔'

ان کے وکیل ہیمپٹن ڈیلنگر نے انہیں تسلی دی کہ آپ نے جو کچھ کہا وہ سوالوں کے جواب میں تھا اور اچانک تھا ۔ آپ نے اپنے طور پر سوچ کر وہ گفتگو نہیں کی تھی۔ اس لیے قانون کی خلاف ورزی قرار نہیں پاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں