امریکی سینٹرل کمانڈ نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ایک ڈرون اور اس کی مدد گار گاڑی کو تباہ کر دیا ہے۔
سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ اس ڈرون اور گاڑی سے خطے میں امریکی اور اتحادی افواج اور تجارتی جہازوں کے لیے واضح اور فوری خطرہ موجود تھا، جس کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران U.S. ’یو ایس‘ سینٹرل کمانڈ کی فورسز نے یمن کے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ایک ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ڈرون اور ایک گاڑی کو تباہ کیا۔
اس سے پہلے فرانسیسی فوج کے ترجمان کرنل گیوم فیرنی نے ’العربیہ‘ اور الحدث کو بتایا کہ ان کا ملک بحیرہ احمر میں نہر سویز سے لے کر آبنائے ہرمز تک تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "بحیرہ احمر میں میری ٹائم سکیورٹی آپریشنز جاری رکھنے کا فیصلہ یورپی یونین کے حکام نے کیا ہے۔ فرانس ان کا ایک حصہ ہے۔ خطے میں ہمارے ایک فریگیٹ مسلسل کام کر رہے ہیں اور ہم اس کے کمانڈ اسٹاف کا حصہ ہیں۔ یورپی اسپڈز آپریشن تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہے"۔
حوثی باغیوں نے گذشتہ برس نومبر میں بحیرہ احمر پر ڈرونز اور میزائلوں سے فضائی حملے شروع کیے تھے جن میں اس نے اسرائیل کی طرف سفر کرنے والے بحری جہازوں کو فلسطینیوں کی حمایت میں نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
حوثیوں نے 70 سے زیادہ حملے کیے۔ اس دوران اس نے دو بحری جہازوں کو ڈبو دیا ایک پر قبضہ کر لیا اور کم از کم تین ملاحوں کو ہلاک کر دیا۔