غزہ معاہدے کا حالیہ مسودہ بے فائدہ ، امریکا حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایسا لگتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی خاطر کئی ماہ سے جاری امریکی صدر جو بائیڈن کی کوششیں جلد کامیاب ہونے والی نہیں۔

پانچ نومبر کو مقررہ آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی امیدیں خاک میں ملتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ معاہدہ بائیڈن کے ریکارڈ میں ایک بڑی کامیابی شمار ہونا تھا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ axios کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکی ذمے داران غزہ کی پٹی کے حوالے سے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات میں بڑی حد تک شکوک کا شکار ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی ذمے داران سمجھتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں موجود حماس تنظیم کے سربراہ یحیی السنوار فی الوقت معاہدہ نہیں چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس غزہ سمجھوتے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو دوبارہ سے پرکھ رہا ہے۔ صدر بائیڈن کے سینئر معاونین اس بات کو زیر بحث لا رہے ہیں کہ آیا پیش رفت کے لیے کسی نئی تجویز کا پیش کرنا فائدہ مند ہو گا یا نہیں !

ایک اعلی امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس ابتدائی طور پر متفق ہو گئے تھے کہ اسرائیل عمر قید کی سزا گزارنے والے فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کرے دے گا۔ اس کے مقابل حماس تنظیم اسرائیلی فوجیوں کو آزاد کرے گی۔

تاہم چند روز قبل حماس نے ایک نیا مطالبہ پیش کیا جس کو امریکی ذمے دار نے "شہد میں زہر" قرار دیا۔ حماس کے مطابق فلسطینی گرفتار شدگان کی رہائی اُن اسرائیلی شہریوں کے مقابل ہونی چاہیے جو گذشتہ برس سات اکتوبر سے غزہ میں یرغمال ہیں۔

ادھر اسرائیل نے بھی چند ہفتوں قبل اپنے طور پر معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور مصری سرحد کے درمیان پھیلی ہوئی فلاڈلفیا (صلاح الدین) گزر گاہ پر فوجی کنٹرول باقی رکھنے پر اصرار کیا ہے۔ اس کے سبب مذاکرات کاروں کا یہ خیال بڑھ رہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کا تنازع کو حل کرنے اور فریقین کے بیچ فائر بندی کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے صراحت کے ساتھ یہ بات دہرائی تھی کہ ان کی فوج فلاڈلفیا گزر گاہ سے کئی برس تک نہیں نکلے گی۔ اس موقف نے مصر کو چراغ پا کر دیا جو کئی ماہ سے فائر بندی کے مذاکرات میں وساطت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح تل ابیب میں بھی غزہ میں یرغمال اسرائیلیوں کے گھرانوں کی جانب سے اھتجاج کی لہر بھڑک اٹھی۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں ابھی تک 100 کے قریب اسرائیلی قیدی موجود ہیں جن میں تقریبا 64 زندہ ہیں۔

بعض امریکی ذمے داران کا غالب گمان ہے کہ زندہ قیدیوں کی تعداد صرف 32 ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں