تونس : ریلوے کارپوریشن کی عمارت پر ترکیہ کا پرچم ، عوام میں شدید غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تونس میں سرکاری ریلوے کارپوریشن کو وسیع پیمانے پر عوامی غیض و غضب کا سامنا ہے۔ عوام کا یہ رد عمل کارپوریشن کی جانب سے اپنی ایک مرکزی شاخ کی عمارت پر ملکی پرچم کی جگہ ترکیہ کا پرچم لگا دیے جانے کے بعد سامنے آ رہا ہے۔

منگل کے روز ایک وڈیو کلپ گردش میں آیا تھا جس میں دار الحکومت تونس سٹی میں ریلوے کارپوریشن کی مرکزی انتظامیہ کے محکمے کی عمارت کے اوپر ترک پرچم لہراتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وڈیو نے عوام میں وسیع پیمانے پر غصے اور ناراضی کی لہر دوڑا دی اور اس غلطی کے ذمے دار افراد کے خلاف ضروری اقدامات کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

تونس کے ریلوے کارپوریشن نے عوام کے لیے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ یہ غلطی اس وجہ سے واقع ہوئی کہ ایک غیر ملکی پرچم تونس کے پرچم سے ملتا جلتا ہے۔ اس کے سبب لہرائے جانے سے قبل غلطی کا پتہ نہ چل سکا۔ البتہ نشان دہی ہوتے ہی غیر ملکی پرچم کو تونس کے پرچم سے تبدیل کر دیا گیا۔

اس سرکاری وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر تونسی باشندوں نے واقعے کی بھرپور مذمت کی۔ اس سلسلے میں سابق صدارتی امیدوار سامی الجلولی نے کہا کہ " تونس کے قومی ریلوے کارپوریشن کی ایک عمارت پر ترکیہ کا پرچم لگا دینے کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ایک عظیم خیانت کے مترادف فعل ہے"۔

یاد رہے کہ تونس میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل 2020 میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون سربراہ عبیر موسیٰ کو وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے اپنی جماعت کے ارکان کے ساتھ قومی دن منانے کی تقریب میں جو کیک استعمال کیا اس پر تونس کے بجائے ترکیہ کا پرچم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں