وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر جوبائیڈن کے معاون خصوصی آموس ہوچسٹن اس مہینے ایک بار پھر اسرائیلی دورے پر جا رہے ہیں۔ وہ ماہ اگست میں لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کے ماحول میں بھی علاقے کے دورے پر گئے تھے۔
حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر جوابی حملے کی دھمکی دی تھی۔ جسے رکوانے کے لیے آموس ہو چسٹن فوری پہنچ گئے تھے۔ امریکہ کی طرف سے یہ کوششیں جاری ہیں کہ حزب اللہ یا کوئی ملک اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں اس قدر آگے نہ نکل جائے کہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے۔
اس لیے امریکی سفارت کار مسلسل سفارتی کوشش کے ساتھ خطے میں آتے جاتے رہتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے رد عمل سخت نہ آجائے۔ یہ سفارتی سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ صدر جو بائیڈن نے ہوچسٹن کو اس پس منظر میں خصوصی ذمہ داری سونپی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے پائے۔
یاد رہے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آٹھ اکتوبر سے سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی دو طرفہ جنگ کے بعد سب سے بڑی کشیدگی ہے۔ جو طویل تر بھی ہے اور شدید تر بھی۔
وائٹ ہاؤس میں موجود قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اس بارے میں کہا ' ہم اسرائیلی جنگ کا دوسرا محاذ کھلنے سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔' آموس ہوچیسٹیئن اسی سلسلے میں اسرائیل جا رہے ہیں۔
-
غزہ جنگ بندی پر 'ضائع کرنے کے لیے مزید وقت نہیں': بیروت میں امریکی ایلچی ہوچسٹین
امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ایلچی آموس ہوچسٹین نے بدھ کو خبردار کیا کہ غزہ جنگ بندی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل لبنان کشیدگی : جوبائیڈن کے مشیر آموس ہوچسٹین کی اسرائیل آمد
امریکی صدر جوبائیڈن کے سینیئر مشیر آموس ہوچسٹین آج پیر کے روز اسرائیل پہنچیں گے۔ ...
بين الاقوامى