امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ایلچی آموس ہوچسٹین نے بدھ کو خبردار کیا کہ غزہ جنگ بندی کے لیے وقت بہت کم ہے جو لبنان کی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 10 ماہ سے سرحد پر جاری فائرنگ تبادلوں کو ختم کرنے میں بھی مدد دے سکے۔
ان کا یہ دورہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے سے ایک دن پہلے ہو رہا ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی طرف سے حالیہ اعلیٰ سطحی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے عزم کے بعد ان مذاکرات میں اعلیٰ سفارت کار ہر طرح کی جنگ کو روکنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ہوچسٹین نے بیروت میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ انہوں نے اور پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری جو حزب اللہ کے اتحادی ہیں، نے "غزہ جنگ بندی کے لیے لائحہ عمل کے معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا اور ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب ضائع کرنے کے لیے مزید وقت نہیں اور نہ ہی کسی بھی پارٹی کے مزید تاخیر کرنے کا کوئی معقول عذر ہے۔
ہوچسٹین نے کہا، "یہ معاہدہ یہاں لبنان میں بھی ایک سفارتی حل فعال کرنے میں مدد کرے گا اور یہ ایک وسیع جنگ کو پھیلنے سے روکے گا۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہمیں سفارتی کارروائی اور سفارتی حل کے لیے اس وقت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ یہی وہ وقت ہے۔"