ایرانی صدر پیزشکیان روس میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر مغرب کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز ماسکو میں تہران کے سفیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان روس میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر مغرب کو تشویش ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے منگل کے روز کہا، روس کو ایران سے بیلسٹک میزائل ملے ہیں اور امکان ہے کہ وہ چند ہفتوں میں یوکرین میں ان کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا، ماسکو اور تہران کے درمیان تعاون سے وسیع تر یورپی سلامتی کو خطرہ ہے۔

امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس نے منگل کو ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں اس کی قومی ایئر لائن ایران ایئر کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا، تہران نے روس کو کوئی بیلسٹک میزائل فراہم نہیں کیے اور امریکہ اور تین یورپی ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف عائد کردہ پابندیاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ پیزشکیان ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کے برکس گروپ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جو 22 سے 24 اکتوبر تک روس کے شہر قازان میں منعقد ہو گا۔

جلالی نے کہا کہ پیزشکیان وہاں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔

ایران اور روس دو طرفہ جامع تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں