فوجیوں کی تعداد 180,000 سے بڑھا کرایک اعشاریہ پانچ ملین کر دی جائے: پوتن کافوج کوحکم
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کو ملک کی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی تعداد 180,000 سے بڑھا کر مجموعی طور پر ایک اعشاریہ پانچ ملین کر دے۔ یوکرین میں ماسکو کی فوجی کارروائی ڈھائی سال سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ پیوٹن کا فرمان یکم دسمبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سے روسی فوجی اہلکاروں کی مجموعی تعداد تقریباً دو اعشاریہ چار ملین ہو جائے گی جن میں ایک اعشاریہ پانچ ملین فوجی شامل ہیں اور یہ حکومت کو ضروری فنڈ فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
روسی فوجیوں کی تعداد میں سابقہ اضافہ گذشتہ دسمبر میں ہوا تھا جب پوتن کے ایک حکم نامے سے روسی فوجی اہلکاروں کی کل تعداد تقریباً دو اعشاریہ دو ملین ہو گئی جن میں ایک اعشاریہ تین دو ملین فوجی شامل تھے۔
قابل ترین روسی فوجی مشرقی یوکرین میں جارحیت پر زور دے رہے ہیں جہاں انہوں نے گذشتہ چند مہینوں میں تسلسل سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
جون میں پوتن نے یوکرین میں "خصوصی فوجی کارروائی" میں شامل فوجیوں کی تعداد تقریباً 700,000 بتائی۔
2022 کے موسمِ خزاں میں یوکرین کی جوابی کارروائی کے پیشِ نظر 300,000 ارکانِ مخصوصہ کی طلبی کے بعد روسی حکام نے یوکرین میں لڑنے والے فوجیوں کی صفوں کو رضاکار فوجیوں سے پُر کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں نسبتاً زیادہ اجرت سے اس طرف راغب کیا گیا ہے۔
کئی مبصرین نے نوٹ کیا ہے کہ کریملن ملکی عدم استحکام کے خوف سے مزید ارکانِ مخصوصہ کو طلب کرنے سے گریزاں ہے جیسا کہ 2022 میں ہوا تھا جب سینکڑوں ہزاروں لوگ لڑائی کے لیے بھیجے جانے سے بچنے کے لیے روس سے فرار ہو گئے تھے۔
چھے اگست کو روس کے علاقے کرسک میں یوکرین کی دراندازی کی کامیابی کے لیے فوجی اہلکاروں کی کمی کو بڑے پیمانے پر ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
کریملن نے مشرقی یوکرین سے فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی سے بچنے کی کوشش کی ہے اور یوکرین کی دراندازی روکنے کے لیے دوسرے علاقوں سے کمک پر انحصار کیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے پیر کو کرسک میں دو مزید دیہاتوں پر یوکرین کی افواج سے قبضہ واپس لینے کی اطلاع دی۔
-
ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے"ایٹمی رازوں"کے بدلے روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کیے
لندن اور واشنگٹن میں کئی دنوں سے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ انٹیلی جنس کے جائزوں کے ...
بين الاقوامى -
ایرانی صدر پیزشکیان روس میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر مغرب کو تشویش
بين الاقوامى -
روس اور ایران کے درمیان "خفیہ جوہری معاہدہ" مغربی ممالک کی تشویش کا سبب
جوہری میدان میں روس اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکان کے سبب مغربی ممالک کے ...
مشرق وسطی