امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو سوڈان کے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ 17 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں دوبارہ شامل ہوں۔
بائیڈن نے ایک بیان میں کہا، "ہم اس تنازعے کے تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس تشدد کو ختم کریں اور سوڈان کے مستقبل اور تمام سوڈانی عوام کے لیے اسے ہوا دینے سے گریز کریں۔"
انہوں نے کہا، "میں سوڈانی مصائب کے ذمہ دار جنگجوؤں - سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) - سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی افواج کو واپس بلائیں، انسانی بنیادوں پر بلا تعطل رسائی کی سہولت فراہم کریں اور یہ جنگ ختم کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات میں شامل ہوں۔"
سوڈان میں 15 اپریل 2023 کو شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سوڈان کی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان مقابلہ ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گیا جو اس سے پہلے بغاوت کے بعد اقتدار میں شریک تھے۔
بائیڈن نے کہا کہ آر ایس ایف کا حملہ غیر متناسب طور پر سوڈانی شہریوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انہوں نے مسلح افواج سے "اندھا دھند" بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا جو شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔
امریکہ نے پہلے یہ تعین کیا تھا کہ فریقین نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور جنگ سے منسلک 16 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کیں۔
بائیڈن نے کہا کہ امریکہ مزید مظالم کے الزامات اور ممکنہ اضافی پابندیوں کا جائزہ لینا جاری رکھے گا۔