بائیڈن کا سوڈان کے متحارب فریقین سے مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا مطالبہ

امریکہ جنگ سے منسلک 16 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو سوڈان کے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ 17 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں دوبارہ شامل ہوں۔

بائیڈن نے ایک بیان میں کہا، "ہم اس تنازعے کے تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس تشدد کو ختم کریں اور سوڈان کے مستقبل اور تمام سوڈانی عوام کے لیے اسے ہوا دینے سے گریز کریں۔"

انہوں نے کہا، "میں سوڈانی مصائب کے ذمہ دار جنگجوؤں - سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) - سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی افواج کو واپس بلائیں، انسانی بنیادوں پر بلا تعطل رسائی کی سہولت فراہم کریں اور یہ جنگ ختم کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات میں شامل ہوں۔"

سوڈان میں 15 اپریل 2023 کو شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 12 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سوڈان کی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان مقابلہ ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گیا جو اس سے پہلے بغاوت کے بعد اقتدار میں شریک تھے۔

بائیڈن نے کہا کہ آر ایس ایف کا حملہ غیر متناسب طور پر سوڈانی شہریوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انہوں نے مسلح افواج سے "اندھا دھند" بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا جو شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔

امریکہ نے پہلے یہ تعین کیا تھا کہ فریقین نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور جنگ سے منسلک 16 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کیں۔

بائیڈن نے کہا کہ امریکہ مزید مظالم کے الزامات اور ممکنہ اضافی پابندیوں کا جائزہ لینا جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں